سابق آسٹریلوی کرکٹر اور کمنٹیٹر کو 4 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
آسٹریلیا(نیوز ڈیسک)سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر مائیکل سلیٹر کو 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق مائیکل سلیٹر نے 7 چارجز میں اپنا جرم قبول کیا جس میں گھریلو تشدد کا الزام بھی شامل ہے۔
کوئنز لینڈ کی ماروچیڈور ڈسٹرکٹ کورٹ نے مائیکل سلیٹر کا کیس سنا، مائیکل سلیٹر پر 2023 کے آخر میں ایک خاتون پر گھریلو تشدد سمیت کئی ایک الزامات لگے تھے۔
عدالت نے مائیکل سلیٹر پر واضح کیا آپ شراب نوشی میں رہے ہیں اس لیے ری ہیب بھی آسان کام نہیں رہا۔
بعد ازاں عدالت نے انہیں 4 سال قید کی سزا سنائی تاہم وہ ایک سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
واضح رہےکہ مائیکل سلیٹر نے 74 ٹیسٹ اور 42 ون ڈے میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔
آپ تنہا نہیں، وفاق آپ کے ساتھ ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کا آزاد کشمیر کی قیادت کو پیغام
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔