کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی سے منظور شدہ لیب سے کرایا جائیگا، عثمان طارق کا بولنگ ایکشن آئندہ چند روز میں لمز بائیو مکینک لیب سے کرائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مینجمنٹ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے تک عثمان طارق کو اسکواڈ میں برقرار رکھنا چاہتی ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مینجمنٹ اسپنر کے کرکٹ کیرئیر کو رسک میں نہیں ڈالنا چاہتی۔
ذرائع کے مطابق عثمان طارق فی الوقت نیٹس میں کوچنگ اسٹاف کے ساتھ اپنے بولنگ ایکشن پر کام کررہے ہیں، آف اسپنر کا بولنگ ایکشن 14 اپریل کو لاہور قلندرز کیخلاف میچ کے دوران مشکوک قرار دیا گیا تھا۔
آن فیلڈ امپائر احسن رضا اور کرس براؤن نے عثمان طارق کا ایکشن رپورٹ کیا، قوانین کے مطابق عثمان طارق کو ٹورنامنٹ میں مزید بولنگ کی اجازت ہے۔
دوبارہ بولنگ ایکشن رپورٹ ہوا تو اسپنر کو بولنگ سے روک دیا جائیگا، عثمان طارق کا پی ایس ایل 9 میں بھی بولنگ ایکشن مشکوک قرار دیا گیا تھا۔
مزیدپڑھیں:جہیز اور دلہن کو ملنے والے تحائف سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا بولنگ ایکشن عثمان طارق کا
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔