پی ایس ایل، عبید شاہ نے وکٹ لینے کی خوشی مناتے ہوئے ساتھی کھلاڑی کو زخمی کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
پی ایس ایل 10 میں گزشتہ روز ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب ملتان سلطانز کے فاسٹ بولر عبید شاہ نے وکٹ لینے کی خوشی مناتے ہوئے غلطی سے وکٹ کیپر عثمان خان کے منہ پر ہاتھ مار دیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عبید شاہ کا ہاتھ منہ پر لگنے کے بعد عثمان خان گر گئے۔ ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
Moment of the Match! Ubaid Shah smashed his own teammates Usman Khan after getting the wicket ???????????? #HBLPSLX #tapmad pic.
— Farid Khan (@_FaridKhan) April 22, 2025
ایک صارف نے کہا کہ عبید شاہ کسی بات کا غصہ نکال رہے تھے۔
Kisi baat ka toh gusa nikal raha ta .
— TajalNoor (@tajal_noor) April 22, 2025
عروج جاوید لکھتی ہیں کہ لڑکا جذباتی ہو گیا۔
Jazbati hogya larka ????
— Urooj Jawed???????? (@uroojjawed12) April 22, 2025
ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’عبید کو عثمان کے ساتھ کچھ ذاتی مسئلہ ہے‘۔ معیز عاصم لکھتے ہیں کہ میں پہلے کوئی میچ دیکھتے ہوئے اتنا کبھی نہیں ہنسا ہوں گا۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ پی ایس ایل کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ تھا جبکہ چند صارفین عبید شاہ کو یہ کہتے نظر آئے کہ عثمان خان کو زور سے مارنا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے بارہویں میچ میں ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کو 33 رنز سے شکست دے دی۔
ملتان سلطانز کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 228 رنز اسکور کیے، جبکہ جواب میں لاہور قلندرز کی ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنا سکی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل عبید شاہ عثمان خان لاہور قلندرز ملتان سلطانز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل عبید شاہ لاہور قلندرز ملتان سلطانز لاہور قلندرز ملتان سلطانز پی ایس ایل عبید شاہ
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔