سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا آبی جنگ کے مترادف ہے، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو بھارت کی طرف سے جلد بازی میں معطل کرنا آبی جنگ کے مترادف ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام بزدلانہ اور غیرقانونی ہے، ہر قطرے پر ہمارا حق ہے، قانونی، سیاسی اور عالمی سطح پر پوری طاقت سے اس کا دفاع کریں گے۔
وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو کا کہنا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں عالمی ادارے بھی شامل ہیں، پاکستان کسی دباؤ میں نہیں آئے گا، کسی بھی جارحیت کا ماضی کی طرح موثر انداز میں جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ فوری معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔