سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک کی حمایت پر وزیرِاعظم کا اظہارِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وزیرِاعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی اصولی حمایت کرنے پر عالمی بینک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے ذریعے کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم نے جمعرات کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے لیے عالمی بینک کے علاقائی نائب صدر عثمان دیون سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی، جس میں دو طرفہ تعاون، ترقیاتی اہداف اور طویل المدتی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی اقدام غیرقانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم
وزیرِاعظم نے کہا کہ بھارت کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائیوں کے باعث اہم بین الاقوامی معاہدوں، جیسے کہ سندھ طاس معاہدہ، کو کمزور کرنے کی کوششوں کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے عالمی بینک کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری پر دلی تشکر کا اظہار کیا، اور خاص طور پر عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور پاکستان کے سابق کنٹری ڈائریکٹر ناجی بنحسین کا پاکستان کے لیے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو آگے بڑھانے میں کردار پر شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی مؤقف کی تائید، بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، وزیراعظم
وزیرِاعظم نے کنٹری پارٹنرشپ فریم کے ذریعے توانائی، انسانی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور گورننس اصلاحات کے شعبوں میں ترقیاتی ترجیحات کے لیے عالمی بینک کے تذویراتی کردار کو سراہا، انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران عالمی بینک کی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا، جس سے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے اور بحالی کے اقدامات ممکن ہوئے۔
اس موقع پر عثمان دیون نے پاکستان میں پُرتپاک میزبانی پر وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے، انہوں نے پاکستان کی معاشی بحالی کے عمل کو سراہتے ہوئے مالیاتی استحکام و پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے پر حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
مزید پڑھیں: بھارت کو عالمی عدالت میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا، سندھ طاس معاہدے سے نکل نہیں سکتا، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت کو ادارہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور جامع معاشی ترقی کے فروغ میں اہم قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی وسائل توانائی سندھ طاس معاہدے شہباز شریف عالمی بینک وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توانائی سندھ طاس معاہدے شہباز شریف عالمی بینک سندھ طاس معاہدے عالمی بینک کے پاکستان کے شہباز شریف شکریہ ادا انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔