پاکستانی سپر اسٹار فواد خان کی بالی ووڈ فلم ابیر گلال کی ریلیز خطرے،بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی۔
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے سپر اسٹار فواد خان کی بالی ووڈ فلم ابیر گلال کی ریلیز خطرے میں پڑگئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد فواد خان اور بھارتی اداکارہ وانی کپور کی فلم شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے اور بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔فلم ابیر گلال کا ٹیزر یکم اپریل کو جاری کیا گیا تھا، یہ فلم جو پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اب اس کی ریلیز اور کامیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ فلم کیخلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا جاچکا ہے۔بھارتی شدت پسند حلقے کی جانب سے اس فلم میں فواد خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے فلم کی ریلیز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنا اس وقت قابلِ قبول نہیں جب ان کا ملک بھارت کے خلاف سرگرم ہو۔ یہی نہیں انہوں نے کرکٹ میچز اور بین الاقوامی شوز میں پاکستانی فنکاروں کی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے۔دوسری جانب فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (FWICE) کے صدر بی این تیواری نے بھی اعلان کیا کہ وہ ابیر گلال کی بھارت میں ریلیز کی اجازت نہیں دیں گے، اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو سخت کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ عوام کی جانب سے بھی سخت ردعمل آئے گا۔یاد رہے کہ فواد خان فلم جو پہلے بھی کئی بھارتی فلموں میں کام کر چکے ہیں ابیر گلال کیساتھ طویل مدت کے بعد واپسی کر رہے تھے تاہم اب ان کی بالی ووڈ میں واپسی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ابیر گلال کی فواد خان کی ریلیز
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک