مودی حکومت کا ایک اور ’بالاکوٹ طرز کی مہم جوئی‘ کا منصوبہ تیار،پاکستان میں ٹارگٹ چن لئے: بھارتی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
بمبئی (نیوزڈیسک) پہلگام حملے کے بعد نریندر مودی حکومت ایک اور بالاکوٹ طرز کے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ”انڈیا ٹوڈے“ کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آزاد کشمیر میں کچھ ٹارگٹس کی نشاندہی کر لی ہے اور ان پر حملے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ایک بریفنگ دی ہے جس میں آپریشنل آپشنز اور اسٹرٹیجک سفارشات شامل تھیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ساری منصوبہ بندی 40 گھنٹے کے اندر اندر کی گئی، جو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کی نشاندہی کرتی ہے۔
بھارتی خفیہ ادارے مسلسل ان مقامات پر نظر رکھے ہوئے تھے، اور اب ان کی آڑ میں ایک اور ”جھوٹا حملہ“ کرنے کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے، جیسا کہ 2019 میں بالاکوٹ میں کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی بھارت نے ایک بے بنیاد دعویٰ کر کے خطے میں کشیدگی پیدا کی تھی اور عالمی سطح پر شرمندگی اٹھائی تھی۔
بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بھارتی میڈیا جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے مسلسل یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں تاکہ حملے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔
بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران پاکستان آرمی نے لائن آف کنٹرول پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ انداز خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے اور مودی سرکار اس سے اپنا ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اندرونی مسائل، معاشی دباؤ اور سیاسی چالاکیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کا پرانا ہتھکنڈہ پھر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی سیاسی اور عسکری ذرائع پہلے ہی اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ مودی حکومت کا ایک اور ”بالاکوٹ ڈرامہ“ نہ صرف بے نقاب ہوگا بلکہ اس سے جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر عدم استحکام کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں سوگ کا سماں ، سیاحوں کے 25 تابوت بھارت پہنچ گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا ایک اور رہا ہے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔