بجلی کی قیمت میں کتنی کمی کی جانیوالی ہے؟اہم خبرآ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
نیپرا نے چار حکومتی پاور پلانٹس کی ٹیرف میں کمی کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی، منظوری کی صورت میں بجلی ایک روپے 9 پیسے سستی ہوجائے گی۔چار حکومتی پاور پلانٹس کی ٹیرف میں کمی کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، نیپرا اتھارٹی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق نیپرا کی منظوری کی صورت میں بجلی ایک روپے 9 پیسے سستی ہوگی، درخواست حویلی بہادر شاہ، بلوکی، نندی پور اور گدو 747 پاور پلانٹ نے دی تھی۔حکام کے مطابق گدو پاور پلانٹ کی انشورنس ابھی تک نہیں ہوئی، باقی کی ہوچکی ہے۔ نیپرا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور پلانٹ 2014ء سے چل رہا ہے، ابھی تک انشورنس کا تعین ہورہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نظرثانی معاہدے سے حویلی بہادر شاہ سے 27، بلوکی سے 26 پیسے فی یونٹ سستی بجلی ملے گی، گدو پلانٹ سے 24 پیسے اور نندی پور سے 32 پیسے فی یونٹ سستی بجلی پیدا ہوگی۔حکام کے مطابق نظرثانی معاہدوں سے پاور پلانٹس کی باقی مدت تک 1500 ارب کی بچت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاور پلانٹ کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں ایرانی پیٹرول اب 280 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا، اور اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ شہری اگر کسی بھی مقام پر ایرانی پیٹرول کی زائد قیمت وصولی دیکھیں تو وہ اس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
دوسری جانب بلوچستان میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئی قیمت کے تعین کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک ریگولیٹری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مارکیٹ پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔