پاکستان نے بھارتی پروازوں کیلئے فضائی حدود بندکردی، نوٹم جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی ہے جس کا نوٹم جاری کردیا گیا ۔
نوٹم کے مطابق پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود ایک ماہ کے لیے بندکی ہیں۔ پاکستانی فضائی حدودکی بندش کا نوٹم 23 مئی کی رات 12 بجے تک مؤثر ہوگا۔
نوٹم کے مطابق پاکستانی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ سول اور ملٹری طیاروں کے لیے دستیاب نہیں۔ بھارتی ائیر لائنز و آپریٹرز کی ملکیت طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے۔ بھارت کے لیز پر لیےگئے طیارے بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں کے یومیہ اخراجات میں لاکھوں ڈالر اضافہ ہوگا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق 100 سے زائد بھارتی پروازیں روزانہ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ ممبئی، احمد آباد، لکھنو، دہلی، امرتسر، گوا، جے پور، چندی گڑھ اور دیگر شہروں سے آپریٹ پروازیں پاکستان سے گزرتی ہیں۔ائیر انڈیا، اسپائس جیٹ، انڈیگو، ائیر انڈیا ایکسپریس اور آکاسا ائیر پاکستانی فضا استعمال کرتی ہیں۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں کو 2 گھنٹوں کا اضافی وقت درکار ہوگا۔
بھارت کے لیےفضائی حدود کی بندش سے پاکستان کو بھی لاکھوں ڈالر یومیہ کا نقصان ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔