پہلگام فالس فلیگ کے بعدپاکستان کیخلاف ایک اور بھارتی منصوبہ بے نقاب، پاکستانی قیدیوں کو استعمال کرنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلا آباد(نیوزڈیسک)پہلگام فالس فلیگ کے بعد ایک اور مذموم بھارتی منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔ پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے بے نقاب ہونے پر بھارت نے نیا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ بنا لیا،
ذرائع کے مطابق اس سے قبل ضیا مصطفی نامی پاکستانی شہری کو جنوری 2003 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے جبری و غیر قانونی حراست میں رکھا تھا، ذرائع ضیاء مصطفیٰ کو اکتوبر 2021 میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے فیک انکاونٹر میں شہید کر دیا،ذرائعاِسی طرح محمد علی حسن کو بھی 27 اکتوبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے جبری و غیر قانونی قید میں رکھا تھا، ذرائعمحمد علی حسن کو بھی اگست 2022 میں میجر فیک انکاونٹر میں شہید کر دیا گیا،ذرائع2003ء سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے 56 بے گناہ پاکستانیوں کو جبری و غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے جنہیں مذموم بھارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے
بھارت جبری و غیر قانونی طور پر قید پاکستانی قیدیوں سے تشدد کے ذریعےزبر دستی پاکستان کیخلاف زہر اگلوا سکتا ہے ،ذرائعان قیدیوں کو جعلی انکاونٹر میں دہشتگرد ظاہر کر کے شہید کرسکتا ہے، ذرائع کے مطابق جن پاکستانیوں کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے جبری و غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے ان میں درج ذیل شامل ہیںمحمد ریاض 25 جون 1999 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
ملتان کےمحمد عبداللہ مکی 8 اگست 2002 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںتفہیم اکمل ہاشمی 28 جولائی 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں
ہیںظفر اقبال 11 اگست 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںعبد الرزاق شفیق نومبر 2010 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںنوید الرحمن 17 اپریل 2013 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںمحمد عباس 12 مارچ 2013 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
صدیق احمد 7 نومبر 2014 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںمحمد زبیر 14 جنوری 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںعبد الرحمن 15 مئی 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںسجاد بلوچ 14 جولائی 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںوقاص منظور 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں۔۔
نوید احمد 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںمحمد عاطف 7 فروری 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںحنظلہ 20 جون 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںذبیح اللہ 22 مارچ 2018 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
محمد وقار اپریل 2019 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںاماد اللہ عرف بابر پترا 26ستمبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںعبدالحنان اکتوبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںسلمان شاہ اکتوبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
حبیب خان نومبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںامجد علی 28 مارچ 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںنذیر احمد یکم دسمبر 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںخالد محمود 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںعبدالرحیم 28 مئی 1995 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںعبد المتین 7 مئی 1997 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
ذوالفقار علی 27 فروری 1998 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد رمضان 25 جون 1999 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد عارف 26 دسمبر سن 2000 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںشاہنواز 27 مئی 2001 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںارشد خان 29 اکتوبر 2001 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد نعیم بٹ 18 اپریل 2003 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد ایاز کھوکھر 6 مارچ 2004 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد یاسین 14 ستمبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد فہد 27 اکتوبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد فہد 10 نومبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںعبداللہ اصغر علی 31 مارچ 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد یونس 31 مارچ 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد حسن منیر 21 اپریل 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمرزا راشد بیگ 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد عابد 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںسیف الرحمن 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
عمران شہزاد 10 فروری 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںفاروق بھٹی 10 فروری 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںشہباز اسماعیل قاضی 5 اکتوبر 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں شہباز اسماعیل نومبر 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد عادل 24 نومبر 2011 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںبہادر علی 25 جولائی 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد عامر 21 نومبر 2017 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںخیام مقصود 24 اگست 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیںدلشن 28 فروری 2022 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
عثمان ذوالفقار 16 مئی 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںابو وہاب علی 7 اگست 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںمحمد ارشاد 13 اکتوبر 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد یعقوب 25 جنوری 2025 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیںقادر بخش 19 مارچ 2025 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں بھارت بالا کوٹ طرز پر نام نہاد دہشتگرد کیمپوں کا بیانیہ بنا کر حملہ کرسکتا ہے،
پاک بھارت باکسنگ ٹاکراآج، عثمان وزیر بھارتی حریف سے ٹکرائیں گے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔