کراچی:

کینال تنازع کے باعث قومی شاہراہ پر دیے گئے دھرنوں کی وجہ سے کراچی سے ملک بھر میں ادویات کی ترسیل معطل ہوگئی۔

احتجاج کے دوران ہائی ویز کی بندش کے باعث کراچی سے پنجاب اور دیگر صوبوں کو ادویات کی ترسیل معطل ہو گئی ہے اور اہم ادویات فضائی راستے سے بھجوائی جارہی ہیں جب کہ لاجسٹک کمپنیوں نے زمینی راستے سے ترسیل کے لیے اسٹاک لینا بھی بند کردیا ہے۔

پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد میمن کے مطابق ہائی ویز کی بندش سے ادویات کی ترسیل میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ زمینی راستے سے بھجوائی جانے والی ادویات پھنسی ہوئی ہیں اور اب اہم ادویات فضائی راستے سے بھجوائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں میں ادویات کی قلت کا فوری خدشہ نہیں ہے کیونکہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کا اسٹاک ہر شہر میں رکھا جاتا ہے اور کول چین کی ضرورت والی زیادہ تر ادویات فضائی راستے ہی سے بھجوائی جاتی ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ راستوں کی بندش کا دورانیہ بڑھنے کی صورت میں ادویات کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ادویات کی سے بھجوائی راستے سے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار