وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر عالمی مالیاتی اداروں، بینکوں اور ماحولیاتی فورمز سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کی بہتری کی جانب گامزن معیشت، مالیاتی اصلاحات، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور کلائیمٹ فنانسنگ جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عالمی بینکوں سے ملاقاتیں، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر گفتگو

وزیرِ خزانہ نے سٹی بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے وفود سے ملاقات کی، اور پاکستان کے مالیاتی نظام میں ان اداروں کی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے دونوں وفود کو آگاہ کیا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار ہے۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی کمرشل مارکیٹس میں واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کے فروغ اور پرائیوٹائزیشن پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔

کلائیمٹ پروسپیرٹی پر پاکستان کا مؤقف

سینیٹر محمد اورنگزیب نے وولنریبل 20 (V20) وزارتی مکالمے میں ’کلائیمٹ پروسپیرٹی کو ممکن بنانا‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کی کلائیمٹ فنانشل اسٹریٹجی اور آئی ایم ایف کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تحت ہونے والے معاہدے کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: مشکل فیصلے اور مستقل مزاجی: وزیر خزانہ نے عالمی فورم پر معاشی حکمتِ عملی بیان کردی

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قابل سرمایہ کاری منصوبے تیار کر رہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ متاثرہ ممالک کی پائیدار ترقی ممکن ہو۔

ڈیجیٹل پاکستان پر ورلڈ بینک سے مشاورت

وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سنگبو کم سے ملاقات میں ڈیجیٹلائزیشن کے حکومتی ایجنڈے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ٹیکسیشن سسٹم، ایف بی آر میں اصلاحات اور اداروں کے درمیان مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں CPF پروگرام کے تحت ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے تعاون کی درخواست بھی کی گئی۔

پاکستان بینک-فنڈ اسٹاف ایسوسی ایشن اور آئی ایم ایف سے ملاقاتیں

وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان بینک-فنڈ اسٹاف ایسوسی ایشن (PBFSA) کے ارکان کو ملک کی معاشی بہتری، آئی ایم ایف معاہدوں اور حکومت کی پالیسی اصلاحات سے آگاہ کیا۔

آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا جناب جہاد اذور سے ملاقات میں بھی پاکستان کی مالیاتی پالیسی، اصلاحاتی اقدامات اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو اجاگر کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف، سینیٹر محمد اورنگزیب واشنگٹن وفاقی وزیر خزانہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف سینیٹر محمد اورنگزیب واشنگٹن وفاقی وزیر خزانہ ریٹنگ میں بہتری کریڈٹ ریٹنگ آئی ایم ایف پاکستان کی سے ملاقات انہوں نے

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر