مسقط میں تہران و واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے موقع پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ان مذاکرات میں پیشرفت کے حصول کیلئے امریکہ کو نیک نیتی، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج صبح صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کے لئے آج شام مسقط کے لئے روانہ گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ جمعے کی شام سفارتی و تکنیکی ماہرین کے وفد کی سربراہی میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لئے عمان کے دارالحکومت پہنچیں گے۔ اسمعیل بقائی نے دونوں ممالک کے اعلی مذاکراتکاروں کی موجودگی میں تکنیکی ماہرین کی نشست کے انعقاد کے بارے دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ عمانی میزبان کی جانب سے بنائی گئی منصوبہ بندی اور ایران و امریکہ کے درمیان مفاہمت کی بنیاد پر، ماہرین کی ملاقاتیں اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی و امریکی صدر کے خصوصی نمائندے کے درمیان بالواسطہ بات چیت؛ ہفتے کے روز انجام پائے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات میں پیشرفت کو مد مقابل کی جانب سے خیر سگالی، سنجیدگی و حقیقت پسندی کے اظہار پر منحصر قرار دیا اور تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکراتی وفد نے سابقہ ​​ریکارڈ و تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ہر ایک قدم کو دوسرے فریق کے رویّے کے مطابق ایڈجسٹ کیا ہے جبکہ ایرانی عوام کے قانونی حقوق و مفادات کے حصول میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ان مذاکرات کے آئندہ دور میں امریکی تکنیکی ٹیم کی سربراہی امریکی وزارت خارجہ میں پالیسی ڈائریکٹر مائیکل اینٹن (Michael Anton) کے پاس ہو گی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی مشرق وسطی کے لئے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف کی جانب سے انجام دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان مذاکرات میں کے درمیان کے لئے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا