پزشکیان و پیوٹن کا 16 بلین ڈالر کے ہتھیار کیساتھ امریکی پابندیوں پر کاری وار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
انتہاء پسند امریکی صدر کیجانب سے ایرانی تیل کی صنعت کیخلاف پابندیوں کے 7ویں پیکج کے اعلان کیساتھ ہی تہران و ماسکو نے آج ایرانی تیل و گیس کے شعبوں کو ترقی دینے کیلئے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں!! اسلام ٹائمز۔ ان دنوں جب ایرانی تیل کی صنعت کے خلاف امریکی پابندیوں کے پیکج، یکے بعد دیگرے مسلط کئے جا رہے ہیں، ماسکو میں موجود تہران کے اعلی سطحی وفد نے واشنگٹن کو "اپنی نئی شراکتداری" پر مبنی واضح پیغام ارسال کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اپنے دورۂ روس پر ماسکو میں موجود ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد نے آج روس کے ساتھ توانائی کے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے جس میں طے پانے والی دونوں ممالک کے درمیان وسیع ہم آہنگی نے ایران کے خلاف امریکہ و یورپ کی مسلسل پابندیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اس دورے کے دوران 7 ایرانی آئل فیلڈز کی ترقی و پیشرفت کے لئے روسی کمپنیوں کے ساتھ 4 بلین ڈالر مالیت کے 4 معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔
اس بارے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ایرانی وزیر تیل محسن پاک نزاد نے دو مرحلوں پر مشتمل اس معاہدے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی کہ جس کا پہلا مرحلہ روس سے گیس درآمد کرنا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کو جذب اور گیس کی ملکی پیداوار میں آنے والے خلا کو پر کیا جا سکے جبکہ دوسرا مرحلہ گیس کے تبادلے کا ایک نیٹورک تیار کرنا ہے کہ جس میں تبادلہ اور ٹرانزٹ، دونوں شامل ہوں گے، جو ایران کو یوریشیا کے "انرجی ہب" میں بدل دے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف روسی توانائی کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو بے اثر کرے گا بلکہ مشرق و مغرب کو آپس میں ملانے والے ایک پل کے طور پر ایران کی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو بھی مضبوط کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔