انتہاء پسند امریکی صدر کیجانب سے ایرانی تیل کی صنعت کیخلاف پابندیوں کے 7ویں پیکج کے اعلان کیساتھ ہی تہران و ماسکو نے آج ایرانی تیل و گیس کے شعبوں کو ترقی دینے کیلئے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں!! اسلام ٹائمز۔ ان دنوں جب ایرانی تیل کی صنعت کے خلاف امریکی پابندیوں کے پیکج، یکے بعد دیگرے مسلط کئے جا رہے ہیں، ماسکو میں موجود تہران کے اعلی سطحی وفد نے واشنگٹن کو "اپنی نئی شراکتداری" پر مبنی واضح پیغام ارسال کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اپنے دورۂ روس پر ماسکو میں موجود ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد نے آج روس کے ساتھ توانائی کے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے جس میں طے پانے والی دونوں ممالک کے درمیان وسیع ہم آہنگی نے ایران کے خلاف امریکہ و یورپ کی مسلسل پابندیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اس دورے کے دوران 7 ایرانی آئل فیلڈز کی ترقی و پیشرفت کے لئے روسی کمپنیوں کے ساتھ 4 بلین ڈالر مالیت کے 4 معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

اس بارے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ایرانی وزیر تیل محسن پاک نزاد نے دو مرحلوں پر مشتمل اس معاہدے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی کہ جس کا پہلا مرحلہ روس سے گیس درآمد کرنا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کو جذب اور گیس کی ملکی پیداوار میں آنے والے خلا کو پر کیا جا سکے جبکہ دوسرا مرحلہ گیس کے تبادلے کا ایک نیٹورک تیار کرنا ہے کہ جس میں تبادلہ اور ٹرانزٹ، دونوں شامل ہوں گے، جو ایران کو یوریشیا کے "انرجی ہب" میں بدل دے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف روسی توانائی کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو بے اثر کرے گا بلکہ مشرق و مغرب کو آپس میں ملانے والے ایک پل کے طور پر ایران کی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو بھی مضبوط کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی