خیبرپختونخوا میں 27 سے 30 اپریل کے دوران ہیٹ اسٹروک کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں 27 سے 30 اپریل کے دوران گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔
پروویشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق خیبرپختونخوا میں 27 سے 30 اپریل کے دوران گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے، شدید گرم موسم کے باعث دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں خطرناک ہیٹ ویو، بچاؤ کے لیے کیا احتیاط کی جائے؟
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ گرمی اور خشک موسمی حالات سے ہیٹ اسٹروک اور آبی ذخائر پر پانی کے دباؤ کا امکان ہے، کسان فصلوں کے لیے پانی کا مناسب انتظام کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عوام سورج کی روشنی میں باہر نکلتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، عوامی آگاہی مہم کےذریعے عوام کو گرمی کی لہر سے باخبر رکھا جائے، بزرگ اور بچے صبح 10 سے شام پانچ کے اوقات میں براہ راست سورج میں نہ نکلے۔
پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ میڈیکل سروسز، پیرا میڈیکس اور ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کو الرٹ اور ہیٹ اسٹروک سینٹر کو فعال رکھنے کی ہدایت کریں، مویشیوں اور پالتو جانوروں کی ضروریات کا خاص خیال رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے لگے کیمپس میں کیا سہولت دی جارہی ہے؟
پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، عوام سفر سے پہلے اپنی گاڑی کے انجن میں پانی اور ٹائروں میں پریشر چیک کریں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 30 اپریل سے مغربی سسٹم صوبے کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا جس کے باعث بارش اور ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا درجہ حرارت گرمی موسم ہیٹ اسٹروک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا ہیٹ اسٹروک پی ڈی ایم اے کا امکان ہے ہیٹ اسٹروک کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔