اے ٹی سی پشاور کا ارباب وسیم سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) پشاور نے ارباب وسیم سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
اے ٹی سی پشاور میں جج ولی محمد خان نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے مقدمے میں ملوث ارباب وسیم سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کیا اور اسے آگ لگائی تھی۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ٹرائل شروع کیا گیا، نامزد ملزمان ٹرائل میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔
عدالت نے متعلقہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرکے اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔