پاکستان کی بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند ہونے پر بھارتی ایئرلائنز کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہونے لگا. بھارتی شہروں سے مغربی ممالک کو جانے والی پروازوں کا دورانیہ 2 سے 4 گھنٹے بڑھ گیا۔ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام مٰیں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارتی حکومت کے اقدامات کے جواب میں پاکستان نے بھی گزشتہ روز جوابی اقدامات کا اعلان کیا تھا.

جس میں بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھی شامل تھی۔پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہونے لگا ہے اور نئی دلی، ممبئی، احمد آباد، سمیت دیگر شہروں سے مغرب ممالک جانے والی بھارتی ایئرلائنز کی پروازوں کا دورانیہ 2 سے4 گھنٹے زیادہ بڑھ گیا ہے ۔بھارت سے نیویارک، لندن اور استنبول جانے والی ایئر انڈیا کی پروازوں کو رخ تبدیل کرنا پڑا ہے اور متعدد پروازوں کو ری فیولنگ کے لیے ویانا سمیت دیگر ملکوں میں اتارا جارہا ہے۔نئی دہلی سے امریکا کے روٹ کے لیے بھارتی ایئرلائنز لاہور سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتی تھیں. اب ان پروازوں کو 2 سے 4 گھنٹے طویل روٹ لے کر بحیرہ عرب کے اوپر سے جانا پڑ رہا ہے۔بھارتی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دہلی ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی متعدد بین الاقوامی پروازوں کے حالیہ روٹس کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے جوابی اقدام سے وسطی ایشیا، قفقاز، مغربی ایشیا، یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا جانے والی بھارتی ایئر لائنز کی پروازیں متاثر ہوں گی۔ہوائی صنعت کے اندرونی ذرائع کے مطابق اگرچہ ابھی اس کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے. لیکن ایئر لائنز کے اخراجات میں ضرور اضافہ ہوگا اور اس کا نتیجہ کرایوں میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

مزید برآں چونکہ دوسرے ممالک کی ایئر لائنز پاکستان کے اوپر سے پرواز جاری رکھ سکتی ہیں، اس لیے انہیں متاثرہ روٹس پر بھارتی ایئر لائنز کے مقابلے میں لاگت کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق جب پاکستان نے 2019 میں بالاکوٹ فضائی حملوں کے بعد طویل عرصے کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی تو بھارتی ایئر لائنز کو طویل روٹس کی وجہ سے ایندھن کے زیادہ اخراجات اور آپریشنل پیچیدگیوں کے باعث تقریباً 700 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستانی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز بھارتی ایئر ایئر لائنز جانے والی لائنز کے کے لیے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی