اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ جنہوں نے اس اشیو پر احتجاج کیا، اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ تمام تر سیاسی اختلافات اور ناراضگی باوجود بھی صوبہ سندھ کے لوگ سندھ کے مفادات کے نام پر ایک ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ میں سندھ کے ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے کینالز کے ایشو پر احتجاج کیا، اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ تمام تر سیاسی اختلافات اور ناراضگی باوجود بھی صوبہ سندھ کے لوگ سندھ کے مفادات کے نام پر ایک ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس پر بھرپور آواز اٹھائی اور وفاقی حکومت پر یہ دباؤ ڈالا کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالے، سی سی آئی کو انشاءاللہ اس اجلاس میں سندھ حکومت اور سندھ کے عوام کا جو موقف ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے دریائے سندھ پر کینالز کے جو منصوبے ہیں ان کو روک دیا جائے گا۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور سندھ کے عوام کو اس متنازعہ منصوبے پر اقدامات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے تمام شہریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ سندھ کے لئے ایک متنازعہ منصوبہ انڈس ریور سسٹم سے کینالز نکالنے کا اس کا خاتمہ ہوا ہے اور یہ معاملہ اب سی سی آئی میں پیش ہوگا، اس متنازعہ منصوبے پر سندھ حکومت اور عوام کو اس سے خدشہ تھا کہ اس سے سندھ کے حصہ کے پانی میں کمی ہوجائے گی، جس کے باعث ہماری زرعی معیشت اور شہریوں کے لئے پینے کا پانی بہت کمی آسکتی تھی اور سندھ کے عوام اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس متنازعہ منصوبے پر سندھ حکومت نے تمام فورمز پر آواز اٹھائی، ہم نے اس پر ایکنک میں اعتراض کیا، ارسا کی جانب سے جاری سرٹیفکیٹ کو سی سی آئی میں چیلنج کیا اور ارسا کے جاری سرٹیفکیٹ والا کیس گذشتہ 9 ماہ سے سی سی آئی میں پڑا ہوا تھا لیکن وفاقی حکومت سی سی آئی کا اجلاس طلب نہیں کررہی تھی۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ نے سندھ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس پر بھرپور آواز اٹھائی اور وفاقی حکومت پر یہ دباؤ ڈالا کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالے، جس کے نتیجہ میں گذشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اصولی طور پر یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ جب تک صوبوں کے مابین اتفاق نہیں ہوجاتا اس وقت تک دریائے سندھ سے کوئی نئی کینال نہیں نکالی جاسکتی اور اس سلسلے میں 2 مئی کو سی سی آئی کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سی سی آئی کو انشاءاللہ اس اجلاس میں سندھ حکومت اور سندھ کے عوام کا جو موقف ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے دریائے سندھ پر کینالز کے جو منصوبے ہیں ان کو روک دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سعید غنی نے کہا کہ اور سندھ کے عوام سندھ حکومت

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش