’’ملیریا کو ختم کرنا ہے‘‘ قابلِ علاج بیماری کیخلاف جنگ کیلیے وزیراعظم کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
ملیریا کے عالمی دن پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 25 اپریل 2025 ملیریا کا عالمی دن ہے جو بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات، ملیریا کے خاتمے اور قابل علاج بیماری کے خلاف جنگ میں آخری حد تک جانے کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کا تھیم "ملیریا کو ختم کرنا ہے، جبکہ سرمایہ کاری سے اور مزید کوششوں اور نئی تحریک سے ملیریا کے خاتمے کی جانب پیش رفت کیلئے عالمی پالیسی سے لے کر کمیونٹی ایکشن تک تمام سطحوں پر کوششوں کو از سر نو متحرک کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ملکی قیادت، ملیریا کے قومی پروگراموں، اور صحت کے نظام کی اصلاحات و حکمت عملی کے ذریعے، دور دراز علاقوں تک پہنچنے اور اسے ختم کرنے کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ملیریا کےعالمی دن کے موقع پر، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، سول سوسائٹی، ہیلتھ ورکرز، اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر اس اہم مشن کے لیے کام کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا ملیریا کے عالمی دن پر خصوصی پیغام
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ عالمی دن "Zero Malaria Starts with Me" اور "Ready to Beat Malaria" کے تھیم سے بھی منایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے ملیریا کی روک تھام کے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ صوبے بھر میں 3541 ہیلتھ پروفیشنلز ملیریا کی تشخیص پر مامور ہیں جبکہ سندھ حکومت نے سیلاب متاثرہ اضلاع خاص طور پر ضلع قمبر کی تحصیل نصیر آباد میں میں ایک لاکھ مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ملیریا و ڈینگی کیسز میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صاف ستھرا ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے، وزیراعلیٰ سندھ صحت مند معاشرہ ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے لہٰذا اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملیریا کے عالمی دن کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔