پاکستانی فضائی حدود بند، بھارت کو یومیہ کروڑوں کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
بھارت جانے والی طویل دورانیے کی پروازوں کی دیگر ملکوں میں لینڈنگ ہونے لگی
زیادہ ایندھن استعمال ہونے کے باعث ٹکٹ بھی مہنگے ، بھارتی ایئر لائنز کو شدید دھچکا
مودی سرکار کے یکطرفہ جارحانہ اقدامات کے بعد پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ۔ اپنے ہی غلط فیصلوں سے یومیہ کروڑوں روپے کا نقصان ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور بھارت سے یورپ و امریکا جانے والی پروازوں کے دورانیے میں اضافہ ہوگیا ہے ، جس سے بھارت سے امریکا و یورپ جانے والی پروازوں کے لیے زیادہ ایندھن استعمال ہونے لگا اور نتیجتاً ٹکٹ بھی مہنگے ہو گئے ۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئر لائنز کو پروازوں کے رخ موڑنا پڑگئے ہیں، بھارت جانے والی طویل دورانیے کی پروازوں کی دیگر ملکوں میں لینڈنگ ہورہی ہیں۔بھارتی طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود شام 6 بجے بند کی گئی جس کے بعد شارجہ سے امرتسر کے لیے پرواز کا رخ تربت میں داخلے سے قبل موڑدیا گیا۔بھارتی ایئر لائن کے طیارے کی خلیج عمان سے گزر کر اضافی فیول کے لیے احمد آباد میں لینڈنگ ہوئی، اسی طرح ٹورنٹو سے بھارتی ایئر لائن کی پرواز اے آئی 190 نے ری فیولنگ کے لیے کوپن ہیگن میں لینڈنگ کی۔پیرس سے دلی کی بھارتی ایئر لائن کی پرواز کی ری فیولنگ کے لیے ابوظبی میں لینڈنگ ہوئی، لندن سے بھارتی ایئر لائن کی پرواز اے آئی 162 کو بھی ابوظبی میں لینڈنگ کرنا پڑی۔یاد رہے کہ 2019میں بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئر لائنز کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کے لیے ایندھن کی لاگت اور آپریشنل پیچیدگیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ روزانہ 70 سے 80 پروازیں بھارت آنے اور جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔ بعض اوقات بھارت آنے اور جانے والی پروازوں کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں ۔ پاکستان سے گزرنے والی بھارتی پروازیں زیادہ تر یورپ، شمالی امریکا، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے لیے ہوتی ہیں۔ پاکستانی پابندیوں کے نتیجے میں ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ،دہلی اور گوا آنے جانے والی فلائٹس سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ تازہ صورتحال کے تحت انڈین ایئر لائنز کو ممبئی اور دہلی سے آنے جانے والی پروازوں کو بحیرہ عرب کے اوپر سے گزارنا ہوگا ۔اسی طرح دہلی سے باکو اور تبلیسی جانے والی پروازوں کے دورانیے میں 90 منٹ کا اضافہ ہوگیا۔ پاکستانی پابندی کے نتیجے میں دہلی سے الماتا سروس مکمل طور پر بند ہو گئی ہے جب کہ شمالی بھارت سے متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کا دورانیہ بڑھنے سے اضافی ایندھن استعمال کرنا پڑے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ایئر لائنز کو طویل دورانیے کی پروازوں اور ہیوی ڈیوٹی طیاروں کے لیے زیادہ ایندھن خرچ کرنا پڑے گا ۔ بھارتی ایئر لائنز کو ایندھن کی مد میں یومیہ کروڑوں کا نقصان ہو سکتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :