سندھ بلڈنگ ، انہدامی کارروائیاں اورغیرقانونی تعمیرات ساتھ ساتھ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
فلک ناز ٹوئن ٹاور، دانیال ریزیڈنسی ،برج الحرمین ،بریشنا ہائٹس کی غلط تعمیرات
کرپٹ ٹولہ قربان جمالی ،عدیل قریشی ،الطاف سومرو ذاتی مفادات میں مگن
ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو نے تیسری بار ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا چارج سنبھالتے ہی دو قوانین نافذ کر دیئے ہیں۔وسطی کو ہدف بناکر باقی اضلاع میں کی جانے والی کرپشن پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ جرأت سروے ٹیم نے نشان دہی کر کے غیر قانونی دھندوں کا پردہ فاش کردیا ہے۔ سروے کے مطابق مطابق اسکیم 33میں فلک ناز ٹوئن ٹاور دانیال ریزیڈنسی ،برج الحرمین ،بریشنا ہائٹس جیسی سینکڑوں خلاف ضابطہ بننے والی عمارتیں زمین پر موجود ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔ اسکیم 33 پر قابض کرپٹ ٹولہ قربان جمالی ،عدیل قریشی ،الطاف سومرو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر ملکی محصولات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔یہ ٹولہ احتساب سے لاپروا ہوکر خلاف ضابطہ بننے والی کمزور عمارتوں کی تعمیر میں ملوث ہیں ۔غلط تعمیرات پر موقف لینے کے لئے ڈی جی اسحاق کھوڑو سے رابط کرنے کی کوشش کی گئی مگرکوئی جواب موصول نہ ہوسکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔