اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مبینہ طور پر گاڑیوں کے غائب ہونے سے وضاحت جاری،میڈیا رپورٹس کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مبینہ طور پر گاڑیوں کے غائب ہونے سے وضاحت جاری،میڈیا رپورٹس کی تردید WhatsAppFacebookTwitter 0 26 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مبینہ طور پر گاڑیوں کے غائب ہونے سے متعلق خبروں کے تناظر میں، حقائق کی وضاحت کرنا اور اصل صورتحال کو واضح کرنا ضروری ہے۔عملے کی کمی اور محدود وسائل کے باوجود، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا فیلڈ عملہ مسلسل دیانتداری اور محنت کے ساتھ کام کر رہا ہے، اور وزارت خزانہ کی جانب سے دیے گئے اہداف کے مطابق حکومت کے لیے اربوں روپے کی آمدن پیدا کر چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران، محکمہ کے روڈ چیکنگ / فیلڈ عملے نے اسلام آباد میں 350 سے زائد گاڑیاں ضبط کیں جو کٹے ہوئے یا ٹیمپر شدہ چیسس نمبرز کے ساتھ چل رہی تھیں۔
ان میں سے 270 سے زائد گاڑیاں قانونی اور ضابطہ کار کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے پولیس یا ان کے rightful مالکان کے حوالے کر دی گئیں۔مزید یہ کہ، محکمہ نے 14 نان کسٹم پیڈ (NCP) / اسمگل شدہ گاڑیاں بھی ضبط کیں، جو کسٹمز حکام کے حوالے کی گئیں اور یوں ریاست کی اینٹی اسمگلنگ اور ریونیو ریکوری کوششوں میں براہ راست کردار ادا کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نئی مشینری کی خریداری پر حکومتی پابندی اور ضبط شدہ گاڑیوں کے متعلق قواعد و ضوابط کے مطابق، وہ گاڑیاں جن کی تصدیق یا ملکیت معلوم نہ ہو سکی، انہیں مختلف سرکاری اداروں بشمول ڈپٹی کمشنر آفس، چیف کمشنر آفس، محکمہ زراعت، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)، اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹس کو سرکاری استعمال کے لیے الاٹ کیا گیا۔ ان تمام الاٹمنٹس کی مکمل دستاویزی ریکارڈنگ موجود ہے اور یہ محکمانہ ریکارڈ میں قابلِ سراغ ہیں۔
محکمہ سمجھتا ہے کہ اس قسم کی بے بنیاد اور گمراہ کن میڈیا رپورٹس کا مقصد محکمے کی مثبت کارکردگی کو دھندلانا ہے۔ صرف موجودہ مالی سال کے دوران محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 15 ارب روپے سے زائد کا ریونیو جمع کر کے قومی خزانے میں جمع کرایا، جس کی تصدیق سرکاری خزانے کے ریکارڈ سے بھی ہوتی ہے۔
عوامی سہولت کے لیے، محکمہ نے ڈور سٹیپ سروس کا آغاز بھی کیا ہے تاکہ وہ شہری جو دفتر آنے سے قاصر ہیں، گھر بیٹھے صرف ایک فون کال پر خدمات حاصل کر سکیں۔ مزید سہولت کے لیے یہ سروس شام کے اوقات میں اسلام آباد کے مختلف عوامی پارکس میں بھی فراہم کی جا رہی ہے۔نقد لین دین کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ کے لیے، محکمہ نے آن لائن ادائیگی کے اختیارات بھی متعارف کرائے ہیں، جن کے ذریعے عوام موبائل بینکنگ ایپلیکیشنز کے ذریعے ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔ محکمہ ان تمام بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے اور قانون کی پاسداری، شفافیت، اور احتساب کے لیے پرعزم ہے۔ ہم ذمہ دارانہ صحافت پر زور دیتے ہیں اور میڈیا اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسی رپورٹس شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق سرکاری ذرائع سے ضرور کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ماڈل کالج ایف سیون فور میں کالج کے قیام کے 52 برس مکمل ہونے پر ایلومنائی ڈنر کی تقریب اسلام آباد ماڈل کالج ایف سیون فور میں کالج کے قیام کے 52 برس مکمل ہونے پر ایلومنائی ڈنر کی تقریب حکومت کا موجودہ کشیدہ صورتحال میں سول ڈیفنس کو ہرلحاظ سے فعال کرنیکا اعلان بھارت پہلگام واقعہ کا بے بنیاد الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، انوارالحق کاکڑ وزیرخزانہ کی امریکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایگزم بینک کی معاونت بڑھانے پر زور ایران کی پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت پھر اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا آئی ہے، رہنما پی پی پیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد کے گاڑیوں کے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔