گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی کم، بیرونی کھاتے سرپلس اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔

جمیل احمد نے واشنگٹن میں عالمی سرمایہ کاروں سے ملاقات کی اور پاکستان کے بہتر معاشی منظرنامے سے انہیں آگاہی فراہم کی۔

گورنر ایس بی پی کی ملاقاتیں واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔

ملاقاتیں بڑے بینکوں جے پی مورگن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ڈوئچے جیفریز، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز اور عالمی سرمایہ کاروں سے ہوئی ہیں۔

اس دوران انہوں نے کہا کہ مہنگائی کم، بیرونی کھاتے سرپلس اور زرمبادلہ ذخائر بڑھے ہیں، پاکستان کی معاشی نمو 3 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔

جمیل احمد نے مزید کہا کہ پاکستان پائیدار معاشی نمو کی سوچ کا محور ہے، ریٹنگ ایجنسیاں اصلاحات سے آئی بہتری کی تائید کر رہی ہیں۔

انہوں نے ملاقاتوں کے دوران عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کےلیے اپنائی گئی پالیسیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح 2 سال میں مہنگائی کو بلند ترین شرح سے 60 سال کی کم ترین شرح پر لایا گیا ہے۔

گورنر ایس بی پی نے عالمی سرمایہ کاروں کو بتایا کہ زرمبالہ ذخائر سابقہ ادوار کی طرح قرض لے کر نہیں بلکہ جی ڈی پی تناسب سے قرض کم کر کے بہتر کیا ہے، بیرونی کھاتہ سرپلس کیا ہے اور توجہ جون تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک لے جانے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی حالات بہتر ہونے سے توقع ہے کہ رواں مالی سال جی ڈی پی نمو 3 فیصد ہوگی، توجہ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور معیشت کے ڈھانچے کو اصلاحات سے بہتر بنانے پر ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں پاکستانی معیشت میں آئی بہتری کی معترف ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: عالمی سرمایہ کاروں جمیل احمد نے

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال