اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اصل دہشت گرد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے خطرہ ابھی بھی موجود ہے اور ہمیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیشکش کی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک پہلگام واقعے کی تحقیقات کرے۔
خواجہ آصف نے مزید کہنا تھا کہ امریکا اور کینیڈا نے مودی پر دہشت گردی کا الزام لگایا، جس کی اب تک مودی نے کوئی تردید نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں بھارت براہ راست ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے جیسا ڈرامہ ایسے ہی نہیں رچایا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر بھارت وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتا ہے تو یہ ایک اچھی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم ابھی خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوئی۔خواجہ آصف نے عندیہ دیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو پہلگام واقعے پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی بلائی جا سکتی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہا

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے