افواج پر کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کے اطلاق میں مزید تاخیر کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کیلیے کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم شروع کیے جانے کے بعد آئندہ مالی سال 2025-26کے وفاقی بجٹ میں مسلح افواج پر کنٹریبیوٹری پنشن سکیم کے اطلاق میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ نے اگلے بجٹ میں فوجی ملازمین کو کنٹری بیوٹری پنشن سکیم سے استثنیٰ دینے کی تجویز دیدی۔
ذرائع کے مطابق تاہم ا س تجویز کی حتمی منظوری آئی ایم ایف سے لی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان کے دوران اس حوالے سے بات چیت متوقع ہے۔
آرمڈ فورسز ملازمین کو یکم جولائی 2025سے سکیم میں شامل کیا جانا تھا جبکہ نئے سول سرکاری ملازمین پر پنشن اسکیم کا اطلاق گزشتہ سال جولائی سے ہوچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق آرمڈ فورسز کو سکیم میں شامل کرنے کیلئے ابھی طریقہ کار ہی وضع نہیں ہوسکا ہے۔ اسٹرکچر اور طریقہ کار طے نہ ہونے کے باعث آئندہ سال بھی عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔
آئی ایم ایف کی آرمڈ فورسز ملازمین کو سکیم میں فوری شامل کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔ کنٹری بیوٹری پنشن سکیم کے مطابق ملازم کی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ اس میں شامل ہونا تھا جبکہ وفاقی حکومت نے پنشن فنڈ سکیم میں ملازم کی بنیادی تنخواہ کا 20 فیصد حصہ ڈالنا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کنٹری بیوٹری پنشن سکیم میں کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا