پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں فرانزک کے لئے آنے والا اسلحہ چوری ہوگیا، جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے تجزیے کے لیے آنے والے پستول چوری کا مقدمہ تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کروا دیا۔

مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ فرانزک سائنس ایجنسی میں پستول تھانہ گوجرہ سٹی مقدمہ نمبر 216/25۔284/25 فرانزک کے لیے آٰیا تھے۔ 

مقدمے میں فرانزلک سائنس ایجنسی کے ملازم علی رضا جونیئر (کمپیوٹر آپریٹر) اور خالد مشتاق سابق نائب قاصد کو نامزد کیا گیا، اور الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں نے ملی بھگت سےلیب سے پستول چوری کیے۔

تھانہ چوہنگ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن پی ایف ایس اے حافظ قیصر حسن کی جانب سے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق سابق نائب قاصد خالد مشتاق اوردوست احتشام ملک کے خلاف تھانہ مصطفی آباد میں آئس فروخت کرنے پر دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج ہوئے، تفتیش کے دوران نائب قاصدخالد مشتاق نےفرانزک لیب سے پستول چوری کرنے کاانکشاف کیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد سیکرٹری داخلہ نے اعلی سطح کی 3رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے تمام سی سی ٹی وی کیمروں سورس ریکارڈ سے تحقیقات کیں۔

حکام کے مطابق نائب قاصد خالد مشتاق کو نوکری سے برخاست کیا گیا تھا اسکے باوجود کیمپیوٹر آپریٹرعلی رضا نے ممنوعہ ایریامیں جانے میں مدد فراہم کی۔

حکام نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر اندراج مقدمہ کیا جارہا ہے اور کیس انٹی کرپشن کو بھی بھجوایا جارہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سائنس ایجنسی

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب