اسٹیئرنگ پر پاؤں رکھ کر گاڑی چلانا ڈکی بھائی کو مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
معروف پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر قانون کے شکجنے میں آگئے ہیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس نے ڈرائیونگ کے دوران خطرناک اسٹنٹ کرنے اور تیز رفتاری پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
یہ بھی پڑھیں مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی نے اپنی آمدنی بتانا کیوں چھوڑ دی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق موٹروے پولیس نے بتایا کہ ڈکی بھائی کے خلاف تھانہ لکسیاں میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق ڈکی بھائی اسٹیئرنگ پر پاؤں رکھ کر گاڑی چلا رہے تھے، جبکہ ایک جگہ ان کی اسپیڈ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔
ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا کہ اسٹیئرنگ پر پاؤں رکھ کر گاڑی چلانا اور تیز رفتاری انتہائی خطرناک ہے، جو عوام کے جان و مال کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے یوٹیوبر کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈکی بھائی کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 289 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں رہائی کے بعد ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ نے پہلی پوسٹ میں کیا کہا؟
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یوٹیوبر کے خلاف ایک ایف آئی آر راولپنڈی کے تھانہ چکری میں بھی درج کی گئی ہے، اس مقدمے میں بھی ان پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیئرنگ ترجمان موٹروے پولیس ڈکی بھائی گاڑی چلانا مقدمات درج وی نیوز یوٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیئرنگ ترجمان موٹروے پولیس ڈکی بھائی گاڑی چلانا مقدمات درج وی نیوز یوٹیوبر موٹروے پولیس ڈکی بھائی کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔