کراچی:

پاکستان کے شہر کراچی میں بسنے والی  سکھ ہندو اور مسیحی برادریوں نے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ میں مودی حکومت ملوث ہے۔بھارت میں بسنے والے اقلیتی افراد غیر محفوظ ہیں۔پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ اور مکمل مذہبی آزادی والا ملک ہے۔

پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کو پاکستان کی تمام اقلیتی برداری مسترد کرتی ہے.

مودی حکومت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا یا جارحیت کی کوشش کی تو وطن عزیز کی حفاظت کے لیے تمام اقلیتی برادری پاک فوج کے ساتھ صف اول کا کردار ادا کرے گی۔

پاکستان کے ہرچم کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں۔ہماری دعائیں ہیں کہ پاکستان سدا شاد وآباد  رہے۔عالمی برادری بھارت کو پاکستان مخالف اقدام سے روکے ورنہ پاکستان کی عوام اپنی فوج کے ساتھ مودی سرکار کو طاقت سے جواب دیں گے۔

ایکسپریس ٹریبون نے پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی اور مودی حکومت کے نام نہاد ڈرامہ کے بارے میں کراچی میں رہائش پذیر اقلیتی برادری کی رائے معلوم کی۔

اس رائے کو معلوم کرنے کے لیے ایکسپریس ٹریبون نے شہر قائد کے قدیم علاقہ رنچھوڑ لائن میں اقلیتوں کے مسکن نارائن پورا کمپاونڈ کا دورہ کیا۔

نارائن پورا کمپاونڈ کے رہائشی اور سماجی کارکن کشور چوہان نے بتایا کہ میرا مذہب ہندو ہے ۔یہ کمپاونڈ 100 سال سے آباد سے ہے ۔یہاں ہندو ۔سکھ اور مسیحی برادری کے لوگ آباد ہیں۔

نارائن پورہ کمپاؤنڈ کم و بیش 17 بلاکس پر مشتمل ہے اور اس کے 4 داخلی راستے ہیں۔ یہاں ایک ہی محلے میں مندر، چرچ اور گوردوارہ موجود ہے۔یہ کمپاونڈ بین المذاہب ہم آہنگی کا مرکز ہے ۔یہاں آباد اقلیتی تمام تہوار ۔خوشی اور غمی مل کر مناتے ہیں۔

ہندو کمیونٹی کے سماجی رہنما دیپک رمیش نے بتایا کہ پاکستان میں تمام اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔بھارت میں اقلیتیں غیرمحفوظ ہیں۔ان کو اپنی عبادت کرنے کرنے کھلی اجازت نہیں ہے۔

مودی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ہندوستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے.انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ہندو برادری پہلگام واقعہ کی مذمت کرتی ہے۔یہ مودی حکومت کا نام نہاد ڈرامہ اور سازش ہے جس کا مقصدپاکستان کو بدنام کرنا ہے لیکن مودی سرکار کا یہ ڈرامہ ناکام ہوگیا ہے۔

پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کے اندر سے مودی حکومت کے خلاف آوازیں مزید بلند ہو گئیں ہیں۔مودی بوکھلاہٹ کا شکار یے۔اس معاملے بھارت کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

نارائن پورا کمپاونڈ کے رہائشی اورسکھ کمیونٹی کے رہنماء وسیم سنگھ نے بتایا کہ پاکستان میں بسنے والے سکھ مذہب کے لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ بھارت سے جو سکھ پاکستان آتے ہیں ۔حکومت پاکستان ان کی مکمل مہمان نوازی کرتی ہیں۔ہمارے گودوارے محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے پہلگام کاواقعہ خود کرایا ہے ۔یہ ڈرامہ کرکے مودی نے سندھ طاس معاہدے کو توڑا یے۔مودی سرکار جان لے پاکستان سے پنگاہ لینا اس کو مہنگا پڑے گا۔

کمپاونڈ کے رہائشی اور سکھ کمیونٹی کے خدمت گار سندیپ سنگھ نے بتایا  بھارتی میڈیا کے پہلگام واقعہ  کے بارے میں پاکستان پر الزامات جھوٹے ہیں۔

دنیا جانتی ہے کہ بھارت اور مودی خود دہشت گردی کے سرپرست ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے رہائشی سکھ وطن عزیز کے ساتھ ہیں۔وطن کی حفاظت کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ہمارے گودواروں میں وطن عزیز کی سلامتی کے لیے دعائیں ہورہی ہیں۔

ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نارائن پورا کمپاونڈ کے رہائشی مکیش سولنگی نے کہا کہ پاکستان کے بسنے والے ہندو وطن عزیز کی حفاظت کے لیے مندروں میں روز دعا کرتے ہیں۔

پاکستان کی طرف بھارت میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا ہے۔ہماری فوج دنیا کی قابل ترین افواج میں سے ایک ہے جو بھارت کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینا جانتی ہیں۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی نارائن پورا کمپاونڈ کی رہائشی خاتون شمشاد مسیح نے  بتایا کہ نارائن پورا اقلیتوں کا مسکن یے۔مسیحی برادری اپنی حکومت اور فوج کے ساتھ ہے۔ہم بھارتی اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔

نارائن پورا کمپاونڈ کے رہائشی مسیحی شخص کینک جاوید نے بتایا کہ پہلگام واقعہ مودی حکومت ڈرامہ ہے۔عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔


نارائن پورا کمپاونڈ کے رہائشی مسیحی نوجوان شہزاد گل نے بتایا کہ تمام چزجز میں مسحی برادری پاکستان کی سالمیت کے لیے روز دعائیں کررہی ہے۔

ہندو کمیونٹی کی بچییوں رینا۔دیشا اور پروی نے کہا کہ بھارت کو ہماری فوج جواب دینا جانتی یے ۔

سکھ خاتون اجیت کور نے کہا کہ بھارت نے جب پاکستان کے ساتھ جارحیت کی کوشش کی اس کو شکست ہوئی۔

بھارت نئی کوئی بھی جارحیت سے قبل 1965 کی جنگ کے نتائج اور اپنی شکست کو یاد رکھے۔سکھ ۔کرسچن اور ہندو مائیں ۔بہنیں اوربیٹیاں وطن عزیز کی حفاظت کے لیےاپنی فوج کے ساتھ ہیں۔

دورے میں دیکھا گیا کہ نارائن پورا کمپاونڈمیں پاک فوج کی حمایت میں نعرے بازی ہوئی۔مندر ۔گودوارے اور چرچ میں تمام اقلیتی کمیونٹی نے  وطن عزیز کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کیں ۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی حفاظت کے لیے اقلیتی برادری پہلگام واقعہ تمام اقلیتی وطن عزیز کی نے بتایا کہ فوج کے ساتھ کہ پاکستان پاکستان کے مودی سرکار پاکستان کی مودی حکومت نے کہا کہ بھارت کو

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق