بھارت میں کوئی غیر ملکی رہنما دورے پر آیا ہوتا ہے تو اس دوران ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی قسم کو کوئی تعلق نہیں، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی ترقی کر رہا ہے، پاکستان میں استحکام آ رہا ہے، اس دوران اس طرح کے واقعے کا نقصان پاکستان کو ہے، جبکہ بھارت کو اس کا فائدہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ جب بھی بھارت میں کوئی غیر ملکی رہنما دورے پر آیا ہوتا ہے، تو اس دوران ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ایسا تیسری بار ہوا ہے کہ باہر کا رہنما دورے پر تھا اور پہلگام میں یہ واقعہ ہوا۔ لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی قسم کو کوئی تعلق نہیں، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی ترقی کر رہا ہے، پاکستان میں استحکام آ رہا ہے، اس دوران اس طرح کے واقعے کا نقصان پاکستان کو ہے، جبکہ بھارت کو اس کا فائدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ پاکستان پُرامن ملک ہے، اگر ہمارے کسی حق کو دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ پورے 24 کروڑ لوگ آخری دم تک لڑیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں جہاں بھی دہشتگردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم نے ہر فورم یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے پر پاکستان باضابطہ طور پر شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ بھارتی حملے کے حوالے سے حقائق منظرعام پر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور ’’را‘‘ دونوں ایک ہیں۔ 3 دن میں 7 آئی ای ڈیز پکڑی گئیں۔ دنیا کو جاننا ہوگا کہ امریکا ہو یا کینیڈا ہر جگہ دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹرین حادثے میں 70پاکستانیوں کی شہادت ہوئی تو دنیا کہاں تھی۔؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر داخلہ انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔