جیکب آباد میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین (ص) میں عوامی رابطہ دفتر قائم کیا جا رہا ہے، جہاں ہمارے معزز ساتھی عوامی مسائل کے حل کیلیے ہمہ وقت موجود رہینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سنگین مسائل نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ ہمارے نمائندے عوامی مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہوکر کرپشن اور ملکی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بات المرتضی کالونی جیکب آباد میں عوامی مسائل کے حل کے لئے عوامی رابطہ دفتر کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ افتتاح کے موقع پر آل ڈومکی اتحاد کے مرکزی رہنماء حاجی شاہ مراد ٹومکی، استاد عبدالفتاح ڈومکی، مجلس علمائے مکتبِ اہل بیت کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی، مدرسہ جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین کے مدرس مولانا ارشاد علی سولنگی، رحم دل خان ٹالانی، منصب علی ڈومکی، زوار غلام مصطفیٰ، استاد رفیق ڈومکی، مولانا منور حسین سولنگی اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔

دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب عوام کی خدمت ہمارا نصب العین ہے۔ آج ملک بھر میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی اور لاقانونیت جیسے سنگین مسائل نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ افسوس کہ عوام کے منتخب نمائندے عوامی مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہوکر کرپشن اور ملکی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ نہ بیوروکریسی کو عوامی مسائل سے دلچسپی ہے، نہ اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کو ان سے سروکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور افلاس کے مارے عوام چوری، ڈکیتی اور بدامنی کا شکار ہیں۔ شہر کی سڑکیں اور راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ شریف شہری کاروبار نہیں کر سکتے۔ سندھ میں ڈاکو اور ان کے سرپرست بھتے کی پرچیاں بھیج کر عوام کو خوفزدہ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اور انتظامیہ ڈاکوؤں کے سامنے بے بس بے حس اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ ان حالات میں جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین (ص) میں عوامی رابطہ دفتر قائم کیا جا رہا ہے، جہاں ہمارے معزز ساتھی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت موجود رہیں گے۔ عوامی رابطے کے لیے ذمہ داران کے نمبرز بھی مشتہر کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر شخص کسی بھی وقت اپنا مسئلہ بیان کر سکے۔ ہم خلوص دل سے عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے مخلص تنظیمی دوستوں پر فخر ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم عوام کی آواز بنیں گے اور عوامی توقعات اور امنگوں پر پورا اتریں گے۔ اس موقع پر تقریب سے استاد عبدالفتاح ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں ہمارے دوست کی چھینی گئی موٹر سائیکل بازیاب ہوئی۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے وارڈ نمبر تین کے مختلف محلوں کا دورہ کیا اور عوام سے ملاقات کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے عوامی مسائل کرتے ہوئے نے کہا کہ میں عوام عوام کی

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی