سابق کپتان نے پہلگام واقعہ کو 'بھارت کا ڈرامہ' قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ بھارت کا بہت بڑا ڈرامہ ہے، انکی پہلے ہی پاکستان سے کھیلنے کی نیت نہیں ہے۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آل راؤنڈر و کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ پہلگام واقعے پر نظر ڈالیں تو صرف ڈرامہ نظر آتا ہے، کیسے ممکن ہے نامعلوم افراد ایک گھنٹے تک کارروائی کرتے رہے اور 8 لاکھ فوج آئی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اپنے لوگوں کو خود مروا کر خود زندہ کروادیتے ہیں، ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں لیکن وہاں سے ہمیشہ منفی جواب ملا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ شاہد آفریدی کا بھی بھارت پر جوابی وار
سابق کرکٹر نے کہا کہ 2016 ٹی20 ورلڈکپ کے دوران حالات کشیدہ ہونے کے باوجود پاکستانی ٹیم بھارت گئی، ہمیں خود نہیں معلوم تھا جانا ہے یا نہیں، کبڈی کی بھارت کی ٹیم آجاتی ہے کرکٹ کی ٹیم نہیں آتی، اگر بند کرنا ہے تو تمام چیزیں بند کرو۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ پاکستان کا جوابی وار! بھارتی براڈکاسٹرز کو وطن بھجوادیا
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا آغاز جنہوں نے کیا تھا انہیں کو جاری رکھنا چاہیے تھا، سن رہا ہوں فرنچائز مالکان مالی نقصان کا کہہ رہے ہیں، کافی فرنچائز مالکان نے فائدہ بھی اٹھایا ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ سابق بھارتی کپتان بھی مودی کی زبان بولنے لگے
سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ محمد رضوان نے جب جنوبی افریقا کو شکست دی تو تب کیوں نہیں کہا میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، جب کپتان بنایا جائے تو اسے بہانے نہیں کرنے چاہیے، مجھے پاکستان کرکٹ ٹیم سے کوئی لگاؤ نہیں ہے، مجھ سے کام لینا ہے تو گراس روٹ لیول پر کام لیا جائے۔
مزید پڑھیں: کھیل میں سیاست؛ پہلگام واقعہ! "کرکٹ نہیں کھیلیں گے"
شاہد آفریدی نے قومی کھیل ہاکی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج گراؤنڈز اور کھیل تباہی کا شکار ہے، ہماری اسپورٹس منسٹری کا قومی کھیل کی طرف سے دھیان نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کھیل سے لگاؤ رکھتے ہیں، امید ہے وہ ہاکی پر توجہ دیں گے۔
آرمی چیف سے ملاقات پر سابق کپتان کا ردعمل
شاہد آفریدی نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات پر کہا کہ کسی کی چغلی نہیں کی اور نہ کسی سے چھپ کر ملا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی نے پہلگام واقعہ مزید پڑھیں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔