نائب وزیراعظم کا برطانوی وزیرخارجہ سے رابطہ، بھارتی پروپیگنڈے سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے برطانوی ہم منصب رائٹ آنربیل ڈیوڈ لیمی ایم پی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بھارتی پروپیگنڈے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ دی رائٹ آنریبل ڈیوڈ لیمی ایم پی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو موجودہ علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا اور بھارت کے جھوٹی الزامات، بے بنیاد پراپیگنڈے اور یکطرفہ اقدامات جن میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا غیر قانونی فیصلے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کے قومی مفادات کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا جبکہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کو بھی دہرایا۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے بات چیت اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیا جبکہ نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی آزاد اور شفاف تحقیقات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔