چین، روس یا مغربی ممالک اس بحران میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے پر چین، روس یا مغربی ممالک اس بحران میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چین، روس یا مغربی ممالک تحقیقاتی ٹیم بنا سکتے ہیں، یہ ممالک تحقیق کر سکتے ہیں کہ آیا بھارت یا مودی جھوٹ بول رہے ہیں یا سچ۔
روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیم کو حقائق جاننے دیں، معلوم کیا جانا چاہیے کہ بھارت یا کشمیر میں مجرم ہے کون؟
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آپ ہمیں تنگ کرنے کیلئے اسی طرح اصلی اور نسلی مچھلی سمیت پانی چھوڑتے رہیں، کوئی بات نہیں ، پڑوسیوں کے بڑے حقوق ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ باتیں یا خالی بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، شواہد ہونے چاہیئں کہ پاکستان ملوث ہے یا پاکستان میں کسی نے ان لوگوں کی مدد کی۔
انکا کہنا تھا کہ صرف خالی بیانات دیے جا رہے ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔