لاہور ہائیکورٹ بار نے ججوں کا تبادلہ آئین کے ساتھ فراڈ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ججز تبادلہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ دستاویزات سے واضح ہوگیا کہ ججز کا تبادلہ آئین کے ساتھ فراڈ اور کالعدم قرار دینے کے قابل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز تبادلہ کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے اہم سوالات اٹھادیے
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ تبادلے کے لیے ججوں کے نام سیکریٹری قانون کی سمری میں سامنے آئے جبکہ اس وقت کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے اندرون سندھ سے کوئی جج موجود نہیں۔
Lahore High Court Bar by Asadullah on Scribd
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بار ایسوسی ایشن ججز تبادلہ کیس جواب سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بار ایسوسی ایشن ججز تبادلہ کیس جواب سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ لاہور ہائیکورٹ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔