پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں کہ چند بھارتی غنڈے آئیں اور ختم کر دیں،سینیٹر عرفان صدیقی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹر عرفان صدیقی نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی گیدڑ بھبکیوں پر رد عمل ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں ہے کہ آپ کے چند غنڈے آئیں اور اس کو ختم کر دیں، پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔
سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد ملک میں سب کا یکجا ہونا انتہائی خوش آئند ہے، مودی کو گجرات کے قصاب کا خطاب دیا گیا جس کو انہوں نے اعزاز سمجھا کہ کس طرح مسلمانوں کو کچلا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے رویے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی قتل گاہ بن گئی، بارہ ہزار کے قریب ہماری کشمیری بہنوں کی آبرو ریزی کی گئی، وہاں کی مسلم آبادی کو دیکھیں تو ہر سات افراد کے ساتھ ایک بندوق بردار کھڑا ہے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھاکہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب کی آبادی کا توازن ختم کر دیا گیا، پہلگام وہ سیاحتی مقام ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں، یہاں ایک واردات ہوئی اور دن دیہاڑے ہوئی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارتی موقف کے مطابق چار افراد آئے، لوگوں کو قتل کر کے کہیں خلا میں چلے گئے؟ کیسے ان افراد نے کاروائی کی، سات لاکھ فوج کہاں تھی؟ وہ فوج جو ہر وقت کشمیریوں کے سر پر سوار رہتی ہے، پہلگام ہمارے ایل او سی سے دو سو کلو میٹر دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیسے دو سو کلو میٹر دور جا کر حملہ کیا جا سکتا ہے، ان کے پہرے دار ہر جگہ کھڑے ہوتے ہیں، ایک ملزم ابھی تک نہیں پکڑا گیا، اور دس منٹ گزرے کے الزام پاکستان پر لگ جاتا ہے، لگتا ہے ایف آئی آر پہلے کٹی ہوئی تھی اور واقعہ بعد میں ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات پس منظر کے ساتھ ہوتے ہیں، امریکا کے نائب صدر تشریف لے آئے تو وہاں 27 افراد زبح کر دیے گئے، صرف یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حملہ پاکستان نے کیا، پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں کہ آپ کے چند غنڈے آئیں اور اسکو ختم کر دیں، پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ ،ڈی جی امیگریشن اور ڈائریکٹر نیب کو شوکاز نوٹس کا معاملہ ،جسٹس بابر ستار کے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر قائمقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر برہم اسلام آباد ہائیکورٹ ،ڈی جی امیگریشن اور ڈائریکٹر نیب کو شوکاز نوٹس کا معاملہ ،جسٹس بابر ستار کے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر.

.. حقیقی ترقی کے خواہاں مسلمان مساجد آباد کریں، مولانا عمران عطاری عالمی بینک سے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پرکوئی بات نہیں ہوئی، وزیر خزانہ پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن کو خط، انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے تبادلے پر نوٹس لینے کی استدعا ذی القعدہ کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیشگوئی کر دی عالمی عدالت میں غزہ پر امدادی ناکہ بندی پر اسرائیل کیخلاف سماعت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں غنڈے آئیں اور عرفان صدیقی

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی