پاکستانی میڈیا نے موجودہ صورتحال میں پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا؛ عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
سٹی 42 : وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستانی ٹی وی چینلز، صحافیوں و اینکر پرسنز کے یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بند کرنے کے اقدام پر ملکی میڈیا اداروں اور صحافیوں و اینکر پرسنز سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، انہوں نے قومی بیانیہ کے موثر دفاع پر پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت نے اپنی شرمندگی اور خفت مٹانے کے لئے پاکستانی چینلز پر پابندی عائد کی، بھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے موجودہ صورتحال میں پیشہ ورانہ مہارت، ذمہ داری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا، پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے پر مدلل انداز میں پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت قومی وقار کو بلند کرنے والے میڈیا اداروں اور صحافیوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی، حکومت پاکستان ہر اس آواز کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ملک کے وقار، سالمیت اور قومی بیانیہ کے فروغ میں معاون ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کا پاکستانی ٹی وی چینلز اور یوٹیوب پلیٹ فارمز پر قدغن لگانا صحافت کے عالمی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے، ایسے اقدامات سے حقائق کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کا موقف دنیا سے چھپایا جا سکتا ہے۔
دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر بھی بھارتی قدغنوں کے خلاف آواز بلند کرے گی، پاکستانی میڈیا نے موجودہ صورتحال میں قومی مفادات کو ترجیح دی اور انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں، پاکستانی صحافیوں اور اینکر پرسنز کی خدمات کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا ۔
وانا میں دھماکہ، وزیرداخلہ کا قیمتی انسانی جانوں کےضیاع پر اظہارِ افسوس
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستانی میڈیا نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔