Jang News:
2026-07-24@09:18:55 GMT

بھارت نے پھر بغیر ثبوت الزام لگایا، بلاول بھٹو زرداری

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

بھارت نے پھر بغیر ثبوت الزام لگایا، بلاول بھٹو زرداری

فوٹو فائل

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کےلیے اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان پر الزام تراشی آسان ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی پہلگام حملے کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار ملک ہیں اور ہم دہشت گردی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، افسوسناک ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ہے۔

پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ بھارت جو الزامات پاکستان پر لگا رہا ہے وہ سب پرانے ہیں، پاکستان اور بھارت کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے حل کرسکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کےلیے دوسروں پر الزام تراشی بھارت کےلیے آسان ہے، نئی دہلی کو اسلام آباد سے متعلق اپنے موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی بات چیت کی تمام تر کوششوں کو بھارت نے مسترد کر دیا، بھارتی الزامات فرسودہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی پاکستان کے ساتھ بات چیت سے انکار پر مبنی ہے، اگر بھارت واقعی کسی حل کا خواہاں ہے تو اسے اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر آبی سفارت کاری کا سنہری معیار سمجھا جاتا ہے، بھارت کا معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونا دنیا کےلیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان پورے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں چاہتا، پاکستان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے تاکہ سچ سامنے آئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے، جب بھارت میں کوئی دہشت گردی ہوتی ہے، بھارتی حکومت پاکستان پر الزام لگادیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عام لوگوں اور اُن کے رشتہ داروں کے گھروں کو تباہ کررہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت پاکستان پر نے کہا کہ پر الزام

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو