حج آپریشن کے انتظامات مکمل، پہلی پرواز کل روانہ ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
لاہور:
حج آپریشن کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے، پہلی حج پرواز 29 اپریل کو روانہ ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان سے سرکاری اسکیم کے تحت 89 ہزار عازمین حج کے لیے جائیں گے، پاکستان سے آخری حج پرواز 31 مئی کو روانہ ہوگی، عازمین حج کو حجاز مقدس پہنچانے کا آپریشن 33 روز تک جاری رہے گا، حج پروازوں کے آغاز پر پہلے 15 روز عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق قومی و نجی ائیرلائن سمیت سعودی فضائی کمپنی حج آپریشن میں حصہ لے رہی ہے، حج آپریشن کے پہلے روز چھ پروازیں سعودی عرب روانہ ہوں گی، 29 اپریل کو لاہور سے دو کراچی، کوئٹہ اور ملتان سے ایک ایک پرواز روانہ ہوگی، اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 713 صبح پونے پانچ بجے روانہ ہوگی۔
ملتان سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 715 رات سوا آٹھ بجے 393 عازمین کو لے کر روانہ ہوگی، کراچی سے سیرین ایئر لائن کی پرواز ای آر 1611 رات ساڑھے نو بجے 285 عازمین کے ہمراہ سعودی عرب جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روانہ ہوگی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔