پانی مسئلے پر مطالبہ غیر مشروط مان لیا گیا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مطالبہ غیر مشروط طور پر مان لیا گیا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ پانی کے مسئلے پر قومی اختلاف پیدا ہو۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ جس کےلیے احتجاج ہورہا تھا وہ مطالبہ غیرمشروط طور پر مان لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہروں کا معاملہ جب بھی ہوگا صوبوں کے اتفاق رائے سے حل ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ پانی کے مسئلے پر قومی اختلاف پیدا ہوا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے آئی ہے الیکشن کے وقت ایسے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔ نریندر مودی کا طریقہ واردات ہے کہ نفرت کو ہوا دو اور پھر ووٹ حاصل کرو، بھارت کے لیے نریندر مودی نقصان دے ثابت ہوں گے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، نریندر مودی اب تک اس ذہنیت سے نہیں نکلے، بھارت خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اور تنقید برداشت نہیں کرسکتا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ خطے کے جتنے ممالک ہیں، بھارت نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے، بھارت جو کر رہا ہے کہ یہ بھی دہشت گردی کی ایک واردات ہے، پہلے واردات کی اور پھر الزام سرحد پار پاکستان پر لگا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے پر جنگ مسلط کی جارہی ہے، ہم بھرپور جواب دیں گے، ہماری بھرپور تیاری ہے، ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بڑا گھٹیا دشمن ہے، اس سے ہر حرکت کی توقع رکھنی چاہیے، بھارت پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے، امریکا اور برطانیہ بھارتی بیانیہ کی حمایت نہیں کررہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔