حکومتی اداروں کو فوری طور پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ایڈوائزری کے مطابق ممکنہ سائبر حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں اسٹرٹیجک انفرااسٹرکچر کی سروسز میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل سرٹ نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر سائبر حملوں کے خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہیکرز کشیدگی کا فائدہ اٹھاکر پاکستان میں سرکاری اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر پر سائبر حملے کرسکتے ہیں، حکومتی اداروں کو فوری طور پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق خطے میں کشیدگی کے پیش نظر سائبر حملوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ) نے ایڈوائزری جاری کردی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہیکرز جنوبی اور وسطی ایشیا میں کشیدگی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں سرکاری ادارے اور حساس انفرااسٹرکچر بشمول دفاعی، مالی اور میڈیا کے شعبے سائبر حملوں کا شکار ہو سکتے ہیں، سائبر حملوں کے لیے اسپیئر فشنگ، مالوئیر اور ڈیپ فیک جیسے طریقے استعمال ہونے کا خدشہ ہے، حملہ آور اداروں کی رازداری اور معلومات چوری کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق ممکنہ سائبر حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں اسٹرٹیجک انفرااسٹرکچر کی سروسز میں خلل پڑ سکتا ہے، سائبر حملوں کی صورت میں ڈیٹا چوری اور مالی نقصان کا امکان بڑھ گیا ہے، پاکستان میں فنانشل اداروں اور بینکنگ سسٹمز میں سائبر کرائم کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل سرٹ نے حکومتی اداروں کو فوری طور پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سائبر حملوں سے سیاسی عدم استحکام اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے،ادارے فوری طور پر اپنے سسٹمز کا سیکیورٹی آڈٹ کروائیں۔ نیشنل سرٹ نے عوام کو سائبر ہائجین کی اہمیت پر آگاہی دینے کی ہدایت بھی کردی ہے، پاکستان میں سائبر حملوں سے بچنے کے لیے اینٹی وائرس اور سیکیورٹی سسٹمز کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سائبر حملوں کے پاکستان میں فوری طور پر کی ہدایت کے مطابق
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز