Express News:
2026-07-24@05:12:04 GMT

سینیٹ میں بھارتی دھمکیوں کیخلاف سیاسی جماعتیں متحد

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

اسلام آباد:

پہلگام واقع کے بعد بھارتی دھمکیوں کیخلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان سینیٹ متحد ہوگئے، حکومتی و اپوزیشن ارکان کہنا ہے بھارت نے پاکستان پر حملے کی غلطی کی تو اسے ایسا سبق سکھائیں گے کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ،پوری اقوام پاک فوج کے شانہ بشانہ وطن کے دفاع کیلیے ہردم تیار ہے۔ 

سینیٹرز کا کہنا ہے پاکستان ایک آزاد ایٹمی ملک ہے،کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے جواب ملے گا۔ 

سینٹ کا اجلاس ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی صدارت میں ہوا، ایوان بالا میں ایجنڈا معطل کرکے مسلم لیگ ن کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان الحق صدیقی کا کہنا تھا کہ بھارت نے امریکی نائب صدر کی آمد کے موقع پرے ڈرامہ رچایا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حملہ پاکستان نے کیا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ اجلاس: پوپ فرانسس کی وفات پر ایک منٹ کی خاموشی

پہلگام واقعہ کے بعد ملک میں سب کا یکجا ہونا انتہائی خوش آئند ہے، ایک شخص کے رویے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی قتل گاہ بن گئی، پہلگام ہمارے ایل او سی سے دو سو کلو میٹر دور ہے، کیسے حملہ کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی بند کرنا چاہتا ہے اس بڑی دہشتگردی کیا ہوگی ہندوستان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ایک نیوکلیٔر طاقت ہیں، مودی اور اسکی انتہا پسند حکومت نے ٹریٹی ختم کرنے کا جو اعلان کیا یہ غیر قانونی ہے۔ 

اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پانی کے مسئلے کو ہم سیاسی بیان بازی کی طرح نہیں لے سکتے یہ ہم پر جنگی اقدام ہوگا، سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا آج تمام پارٹیوں کا یکجا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی خاطر ہم سب ایک پیج پر ہیں، تمام پارٹیاں پاکستان کی ترقی اور استحکام کی خاطر ایک ہیں۔ 

مزید پڑھیں: اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ؛ عدالت نے سینیٹ اجلاس کی آئندہ تاریخ طلب کرلی

سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا وزیر اعظم کو تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ، پوری قوم پاک فوج کے پیچھے کھڑی ہے، ہمارا آرمی چیف بہادر اور پُر اعتماد ہے، پھر ہمیں کس چیز کی فکر ہے؟ ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان