پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بھارت کی پانی کی دھمکی کو سیاسی بیان کے طور پر نہیں لے سکتے۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی مسائل کا شکار ہے، وطن عزیز کے دفاع کےلیے ہم ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو توڑنے کی ہر کوشش کی ہے، نئی دہلی تو اسلام آباد کے خلاف بیانیہ بناتا رہتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ بھارت نے پارلیمنٹ سے بل منظور کروا کر کشمیر پر قبضہ کرلیا، پانی کی دھمکی کو سیاسی بیان کے طور پر نہیں لے سکتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جنگ ہے، ہمارا دشمن ہم پر جان لیوا وار کرنا چاہتا ہے، دشمن تاک میں رہتا ہے کہ کس وقت وار کیا جائے، بھارت نے سمجھا کہ پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔

شبلی فراز نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی قوم کو ایک ہی شخص اکٹھا کرسکتا ہے، اُسے میڈیا پر 5 منٹ کی تقریر کرنے دیں، وہ کہے کہ سب مینار پاکستان آجائیں تو ایک کروڑ لوگ وہاں اکٹھے ہوجائیں، ہم واہگہ بارڈر کی طرف مارچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھارت کو ہومیوپیتھک پیغام دیے ہیں، نئی دہلی کو سخت پیغام دینا چاہیے جو صرف ایک شخص دے سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے الیکشن کرائے جائیں، ہم قرارداد جمع کرارہے ہیں کہ ثانیہ نشتر کی سیٹ پر الیکشن کرائیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، مجھ پر کیسز ہیں، ہمارے 10 ہزار ورکرز پر مقدمات ہیں، اس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے تبصرہ کیا کہ شکر کریں اتنے کیسز پر آپ گرفتار نہیں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شبلی فراز نے نے کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی