پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
گزشتہ روز ایک بار پھر گرفتار کی گئیں پی ٹی آئی کی رہنما صنم جاوید کو لاہور پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا۔
رپورٹ کے مطابق صنم جاوید اور ان کے شوہر کو پولیس نے گزشتہ روز حراست لیا تھا اور دونوں میاں بیوی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا، کوٹ لکھپت جیل کے قریب سے صنم جاوید اور اس کے شوہر پروفیسر عتیق کو حراست میں لیا گیا تھا۔
صنم جاوید 9 مئی کیسز کی جیل میں جاری عدالتی سماعت کے بعد کوٹ لکھپت جیل سے باہر نکلی تھیں۔
صنم جاوید کو روڈ بلاک کرکے اشتعال انگیز نعرے بازی اور ریاست مخالف نعرے لگانے پر تھانہ اسلام پورہ میں پولیس مدعیت میں درج مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔
مقدمہ نمبر 486میں عالیہ حمزہ، صنم جاوید، نازیہ بلوچ، انتظار حسین پنجوتہ سمیت 35 نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے۔
مقدمہ 8 فروری کو تھانہ اسلام پورہ میں درج کیا گیا، مقدمہ میں انویسٹی گیشن اسلامپورہ پولیس نے صنم جاوید کو گرفتار کیا ہے۔
انویسٹی گیشن پولیس نے کہا کہ صنم جاوید سے مزید تفتیش کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صنم جاوید کو پولیس نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔