لاہور:

چیئرنگ کراس پر گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے جاری دھرنے پر پولیس نے رات گئے آپریشن کلین اپ کرتے ہوئے کارروائی کی، جس کے دوران دھرنے کے متعدد شرکاء کو حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو دھرنے کے مقام پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران 52 خواتین اور 20 مرد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد کو قریبی تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

آپریشن کے دوران پولیس نے دھرنے کے مقام پر موجود تمام سامان، بشمول بینرز، خیمے اور دیگر اشیاء، بھی ہٹا دیے۔ علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور چیئرنگ کراس کے اطراف ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا۔

مزید پڑھیں: گرینڈ ہیلتھ الائنس کے بائیکاٹ کی وجہ سے بلوچستان میں انسداد پولیو مہم مؤخر

گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے دھرنا سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے مطالبات کے حق میں دیا گیا تھا، جس میں تنخواہوں، سروس اسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد عوام کی آمد و رفت میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرینڈ ہیلتھ الائنس

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا