نہروں کے معاملے پر احتجاج سے کھربوں روپے کا نقصان، مگر کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
صوبوں کی رضامندی کے بغیر کوئی نہر نہیں بنائی جائے گی، مشترکہ مفادات کونسل میں گزشتہ روز اس اتفاق رائے کے بعد امید ظاہر کی جارہی تھی کہ سندھ بھر میں جاری احتجاج ختم کرکے سڑکیں کھول دی جائیں گی۔
احتجاج تو ختم ہوگئے ہیں لیکن ایک مقام پر اب بھی پر امن دھرنا جاری ہے، جو معاشی اعتبار سے تشویش ناک بات ہے کیونکہ ہزاروں کنٹینرز سڑکوں پر موجود ہیں جن میں موجود سامان خراب ہو چکا ہے۔
یہ معاملہ ہے کیا؟وفاقی حکومت کی جانب سے گرین پاکستان انیشی ایٹیو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا اور اسے کامیاب بنانے کے لیے 6 نہروں کے منصوبے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد پانی کی تقیسم پر صوبوں میں اختلافات ابھر کر سامنے آئے جبکہ صوبہ سندھ سے شدید رد عمل سامنے آیا۔
پنجاب میں مزید 6 نہریں بنانے کے اعلان کے بعد سندھ میں سول سوسائٹی، سندھ بچاؤ تحریک، قومم پرست جماعتیں اور وکلا ایکشن کمیٹی سڑکوں پر آگئے اور اہم شاہراہوں پر دھرنے دیے گئے اور پنجاب اور سندھ کو آپس میں ملانے والی شاہراہوں کو بند کردیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں کنٹینرز سڑک پر پھنس کر رہ گئے۔
صدر پاکستان ٹرانسپورٹ گڈز الائنس ملک شہزاد اعوان نے وی نیوز کوبتایا کہ اس وقت 50 ہزار کے قریب کنٹینرز صادق آباد سے سکھر اور سکھر سے حیدر آباد کے درمیان موجود ہیں۔
’اس وقت بھی سڑکیں بند ہیں ہمارے کنٹینرز سڑکوں پر موجود ہیں، ہمیں باقی کہیں مسئلہ نہیں تھا صرف سکھر میں مسئلہ تھا اور وہ اب بھی بند ہے جس میں 50 ہزار کے کنٹینرز پھنسے ہیں اور صرف 19 ہزار کنٹینرز میانوالی کے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں:کینال منصوبہ ختم نہ کیا گیا تو بندرگاہیں بھی بند کرسکتے ہیں، سندھ کے وکلا
ملک شہزاد اعوان کے مطابق زیادہ تر کنٹینرز کیٹل فوڈ سے لدے تھے جو خراب ہوچکی ہیں، جسے خریداروں نے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے، جو سامان لاہور سے کراچی آرہا تھا وہ 12 روز صادق آباد میں پھنس کر خراب ہو چکا ہے، جسے واپس لے کر جانا پڑے گا۔
’اسی طرح جو سامان کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کی جانب جانا تھا وہ بھی خراب ہو چکا ہے اسے بھی واپس کراچی چھوڑنا پڑے گا۔‘
مزید پڑھیں:کینال تنازع: پیپلز پارٹی نے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کرلیا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ٹرانسپورٹ گڈز الائنس حیدرآباد سکھر سندھ کنٹینرز مشترکہ مفادات کونسل ملک شہزاد اعوان میانوالی ہنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سکھر کنٹینرز مشترکہ مفادات کونسل ملک شہزاد اعوان میانوالی
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔