غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کے انخلا کی مہم جاری، پنجاب سے 12 ہزار سے زائد غیرملکی ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
لاہور سمیت پنجاب بھر سے غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق صوبے سے اب تک افغانیوں سمیت 12 ہزار 762 غیر قانونی مقیم باشندے ڈی پورٹ ہوئے ہیں۔
انخلا مہم کے دوران 12 ہزار 936 غیرقانونی مقیم باشندوں کو ہولڈنگ سینٹرز پہنچایا گیا جبکہ 174 غیر قانونی مقیم افراد ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی دستاویز پر پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش کرنے والا افغان شہری گرفتار
ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور میں 5 اور صوبہ بھر میں 46 ہولڈنگ سینٹرز قائم ہیں جہاں ڈی پورٹ کیے جانے سے قبل غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو رکھا جاتا ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی مقیم باشندوں کے انخلا کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور تمام غیر قانونی مقیم افراد کا انخلا یقینی بنا رہے ہیں۔
آئی جی پنجاب نے یقین دلایا کہ انخلا کے عمل کے دوران انسانی حقوق کو مکمل طور پر مدنظررکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان شہری ترجمان پنجاب حکومت غیرملکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان شہری ترجمان پنجاب حکومت غیرملکی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔