Daily Ausaf:
2026-07-24@03:17:49 GMT

منفرد تعلیمی ادار وں کے بانی کی مثالی خدمات

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

لاہور شاہدرہ میں ادارہ معارف القران اور جامع مسجد فضیلت کا سنگ بنیاد رکھنے کی خبر سننے کے بعد اس خاکسار نے رابط کر کے نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے پر انہیں مبارکباد پیش کی،گذشتہ روز ان سے ملاقات ہوئی تو میرا ان سے پہلا سوال ہی یہ تھا کہ ’’مولانا‘‘ اب تک کتنی مسجدیں ،ادارے اور قرآنی مکاتیب قائم کر چکے ہیں؟انہوں نے سوچتی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بولے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں 15مساجد اور ادارہ معارف القرآن کی 8 برانچیں قائم ہیں،ادارہ معارف القرآن کے شعبوں میں قرآن کریم کا شعبہ سب سے بڑی اہمیت کا حامل ہے،شعبہ درس نظامی میں طلبا ء کی تعلیم درجہ سابعہ تک ہے جبکہ طالبات کو مکمل درس نظامی کا کورس کروایا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ ادارے کے زیر اہتمام ایک بچیوں اور دو بچوں یعنی طلبا ء کے لئے تین ہائی سکول بھی قائم ہیں،ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں تین سو حفظ کی کلاسیں قائم ہیں،انکے قائم کردہ سکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کو مکمل اسلامی ماحول فراہم کیا جاتا ہے،انگلش کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی اعلیٰ تعلیم بھی دی جاتی ہے ،بچیوں کو شرعی پردے کی اہمیت اور موبائل سمیت سوشل و الیکٹرانک میڈیا کے دجل اور فریب کاریوں سے بھی آگاہی فراہم کی جاتی ہے ،فی زمانہ قوم کے بچوں اور بچیوں کی اخلاقی تربیت کی جتنی آج ضرورت ہے محسوس ہوتی ہے ،اتنی شائد پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی ہو،وزارت تعلیم کی موجودگی میں ملک کے تعلیمی اداروں سے تعلیم غائب،تربیت تو سرے سے تھی ہی نہیں اور اب تو تعلیمی ادارے نشہ کرنے کے اڈے اور گرل فرینڈ بواے فرینڈز بنا نے کی کارخانے بن چکے ہیں،ان حالات میں خادم قرآن مولانا عبدالوحید کی سرپرستی میں قائم ادارہ معارف القرآن کی برانچوں اور سکولوں میں قوم کے ہزاروں بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔
قرآ ن کریم کے ماہرین اور ملک کے جید قراء کرام ادارہ معارف القرآن میں بچوں کو قرآن کریم حفظ کروانے کے ایک خاص اسلوب اور منفرد انداز سے نہ صرف یہ کہ متاثر بلکہ اس منفرد انداز کو متعارف کر وانے پروہ مولانا عبد الوحید کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں، کمال یہ ہے کہ مولانا عبدالوحید کی خدمات صرف دینی اور عصری علوم کو پھیلانے تک ہی محدود نہیں، بلکہ ان کی کی رفاہی خدمات بھی آزاد کشمیر سے لے کر ملک کے چاروں صوبوں تک پھیلی ہوئی ہیں ،انہوں نے اس خاکسار کو بتایا کہ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے جن علاقوں میں پانی موجود نہیں ہے اور لوگ پانی کے لیے ترستے ہیں وہاں انہوں نے نہ صرف یہ کہ کنویں کھدوانے بلکہ بورنگ کروانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے ،غریب اور نادار بچیوں کی شادیوں کے انتظام کرنا،ملک میں جب بھی کوئی افت آئی، وہ سیلاب کی صورت میں ہو، زلزلے کی صورت میں ہو یا کسی وبائی صورت میں، ہو ،انہوں نے اپنے فلاحی ادارے کے تحت ان علاقوں کے لاکھوں لوگوں کو بنیادی ضرورتوں سے لے کر مکانات کی تعمیر تک ،اپنا بھرپور کردار ادا کیا،مولانا عبدالوحید انتہائی سلجھے ہوئی مرنجان مرنج شخصیت کے مالک ہیں،ان کی شخصیت کو تاریخ نے نہیں،بلکہ انہوں نے اپنی علمی عملی اور فلاحی خدمات کی ایک بے مثال تا ریخ مرتب کی۔
دنیا میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں جنہیں تاریخ ساز اور عہدساز کہاجاتا ہے۔خادم قرآن مولانا عبدالوحید بھی انہی تاریخ ساز شخصیات میں شامل ہیں۔ 1965ء میں آزاد کشمیر کے علاقے تراڑکھل میں پیدا ہوئے اور بنیادی تعلیم اپنے علاقے ہی میں حاصل کی بعدازاں جامعہ فاروقیہ کراچی سے دورہ حدیث کی سند حاصل کی اور کراچی ہی میں ادارہ معارف القرآن کے نام سے ادارہ قام کرکے اپنی خدمات کا آغاز کیاادارہ معارف القرآن کی بنیاد اپریل 1992ء میں اکابر علماء کے ہاتھوں رکھی گی ،ایک چھوٹی سی مسجد سے شروع ہونے والا یہ ادارہ مولانا کی محنت و لگن سے اب 8 مراکز ، 300 قرآنی کلاسز اور 15 مساجد تک جا پہنچا ہے تو یہ سب اللہ پاک کا ان پر خاص فضل وکرم ہے ۔
کراچی کی علمی و دینی فضائوں میں ادارہ معارف القرآن کا نام ایک عظیم دینی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس تحریک کے بانی و مہتمم، مولانا عبدالوحید کے قائم کردہ مدارس میں حفظ قرآن کریم کا جو اعلیٰ معیار اپنایا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے اداروں میں نہ صرف قرآن مجید کو خوبصورتی سے حفظ کروایا جاتا ہے بلکہ طلبہ کے اخلاق و کردار کی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ آج ان مدارس کے فارغ التحصیل حفاظ دین کی خدمت کے ساتھ دنیا کے مختلف گوشوں میں قرآن کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ادارہ معارف القرآن مولانا عبدالوحید انہوں نے قرآن کی ہیں ان ملک کے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا