بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار، 2 یونٹوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے جب کہ اپنے ہی سکھ فوجیوں پر فائرنگ کردی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ بھارتی فوج کی دو یونٹوں کی ایک دوسرے پر فائرنگ کی، 25 اور 26 اپریل کی درمیانی شب مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی دو یونٹوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں 5 سکھ فوجی ہلاک ہوگئے۔
ذرائع نے کہا کہ یہ واقعہ جاپالہ بریج ، بارامولا سیکٹر میں دوران پٹرولنگ پیش آیا، 185 بی ایس ایف جو کہ بارہ مولہ میں تعینات ہے نے 12 برگیڈ کی 13 سکھ لائٹ انفنٹری رجمنٹ پر فائرنگ کر دی۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی فوج میں پائی جانے والی بوکھلاہٹ کی جانب واضح اشارہ ہے، ذرائع نے کہا کہ اس واقعہ پر 13 سکھ لائٹ انفینٹری کے سکھ جوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں، پاک فوج پر اپنی سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے، بھارت کی جانب سے کسی طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج پر فائرنگ نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔