سربراہ تحریک بیداری و دیگر رہنماوں کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ وہ نظریہ جو مزاحمت، آزادی اور عزتِ نفس کا علمبردار تھا، آج عالمی خاموشی کی گہری لہر میں دفن کیا جا رہا ہے۔ امت مسلمہ کا ضمیر، جو کبھی مزاحمت اور جرأت کا نشان تھا، آج مصلحتوں اور بے حسی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ جن قدموں کو اٹھنا تھا، وہ بے حرکت ہیں، اور جن زبانوں کو پکارنا تھا، وہ مصلحتوں کے قفل میں بند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریکِ بیداری اُمتِ مصطفیٰؐ کے تحت ایوانِ اقبال لاہور میں "غزہ میں کیا ہو رہا ہے، اور ہمیں کیا ہو گیا ہے؟" کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ کانفرنس میں سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، خواجہ معین الدین محبوب، ڈاکٹر فرید پراچہ،  خرم نواز گنڈاپور، پیر ہارون گیلانی، غلام رسول اویسی، ڈاکٹر آصف اکبر سمیت ملک کی نمایاں مذہبی و فکری شخصیات شریک ہوئیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ وہ نظریہ جو مزاحمت، آزادی اور عزتِ نفس کا علمبردار تھا، آج عالمی خاموشی کی گہری لہر میں دفن کیا جا رہا ہے۔ امت مسلمہ کا ضمیر، جو کبھی مزاحمت اور جرأت کا نشان تھا، آج مصلحتوں اور بے حسی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ جن قدموں کو اٹھنا تھا، وہ بے حرکت ہیں، اور جن زبانوں کو پکارنا تھا، وہ مصلحتوں کے قفل میں بند ہیں۔ ایسے میں قرآن کا سوال گونج رہا ہے، کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے نہیں لڑتے جو فریاد کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی مددگار بھیج دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین جیسے عظیم انسانی و اسلامی مسئلے پر مؤثر اور بامقصد آواز بلند کرنے کیلئے ضروری ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر باہمی اعتماد، خلوصِ نیت اور احساسِ ذمہ داری کیساتھ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ان کے مابین فکری ہم آہنگی اور عملی اشتراک ایسا غیر متزلزل اتحاد تشکیل دے گا جو نہ صرف امت کو اندرونی خلفشار اور فرقہ وارانہ تقسیم سے نجات دلائے گا، بلکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دے گا کہ امتِ مسلمہ فرقوں، قوموں اور جغرافیائی سرحدوں سے بالا تر ہو کر مظلوم فلسطینی عوام کیساتھ یکجان و یک آواز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے حماس اور حزب اللہ کی مثالیں مشعلِ راہ ہیں، جنہوں نے شیعہ سنی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مزاحمتی صف بندی قائم کی، ایک دوسرے کیلئے جانیں قربان کیں، اور وفاداری، قربانی اور اخلاص کی تاریخ رقم کی۔

مقررین نے کہا کہ انیس مہینے سے جاری اسرائیلی مظالم پر امت کی خاموشی ملتِ اسلامیہ کے شایانِ شان نہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ غزہ کو مرکزِ وحدت بنا کر ایک ایسا جامع، بامعنی اور غالب بیانیہ تشکیل دیا جائے جو میڈیا پر چھائے وقتی، سطحی اور غیر اہم بیانیوں کو پسِ پشت ڈال دے۔ ملک کے دس بڑے شہروں میں مشترکہ، منظم اور متحدہ عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں تاکہ قوم فکری طور پر بیدار، عملی طور پر متحرک، اور وحدت کے سانچے میں ڈھل کر ایک مؤثر قوت کے طور پر اُبھرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان میں ایک ہم آہنگ، مضبوط اور بیدار اسلامی تحریک کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری