واٹس ایپ کی ویب صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف کرانے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
انسٹنٹ میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اپنے ویب ورژن کے لیے وائس اور ویڈیو کالنگ متعارف کرانے کی تیاری لی۔
واٹس ایپ بِیٹا انفو کے مطابق کمپنی کی جانب سے یہ فیچرز واٹس ایپ ویب کے بِیٹا ورژن میں آزمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ تاہم، صارفین کے لیے فیچر لانچنگ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
اس اپ ڈیٹ کے بعد صارفین کروم، سفاری اور ایج جیسے براؤزر سے براہ راست انفرادی اور گروپ کالز کر سکیں گے اور ونڈوز یا میک او ایس صارفین کو واٹس ایپ کی ڈیسک ٹاپ ایپ کی ضرورت نہیں رہے گی۔
واٹس ایپ نے 2021 میں اپنے ڈیسک ٹاپ ورژن میں کالنگ فیچر متعارف کرایا تھا۔ تاہم، صارفین اس فیچر کو مخصوس ویب براؤزرز پر ہی استعمال کر سکتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واٹس ایپ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔